قومی زبان

مرا خلوص ابھی سخت امتحان میں ہے

مرا خلوص ابھی سخت امتحان میں ہے کہ میرے دوست کا دشمن مری امان میں ہے وہ خوش نصیب پرندہ ہے جو اڑان میں ہے کہ تیر نکلا نہیں ہے ابھی کمان میں ہے تمہارا نام لیا تھا کبھی محبت سے مٹھاس اس کی ابھی تک مری زبان میں ہے تم آکے لوٹ گئے پھر بھی ہو یہیں موجود تمہارے جسم کی خوشبو مرے مکان میں ...

مزید پڑھیے

نہ ہو جس پہ بھروسہ اس سے ہم یاری نہیں رکھتے

نہ ہو جس پہ بھروسہ اس سے ہم یاری نہیں رکھتے ہم اپنے آشیاں کے پاس چنگاری نہیں رکھتے فقط نام محبت پر حکومت کر نہیں سکتے جو دشمن سے کبھی لڑنے کی تیاری نہیں رکھتے خریداروں میں رہ کر زندگی وہ بک بھی جاتے ہیں ترے بازار میں جو لوگ ہشیاری نہیں رکھتے بناؤ گھر نہ مٹی کے لب ساحل اے ...

مزید پڑھیے

گردش دوراں سے اک لمحہ چرانے لیے

گردش دوراں سے اک لمحہ چرانے لیے سوچنا پڑتا ہے کتنا مسکرانے کے لئے کتنی زحمت جھیلتا ہے ایک مفلس میزبان گھر کی بد حالی کو مہماں سے چھپانے کے لئے بھوک ان کو لے گئی ہے کارخانوں کی طرف گھر سے بچے نکلے تھے اسکول جانے کے لئے خون اپنا بیچ کر آیا ہے اک مجبور باپ بیٹیوں کے ہاتھ پر مہندی ...

مزید پڑھیے

بے وفائی اس نے کی میری وفا اپنی جگہ

بے وفائی اس نے کی میری وفا اپنی جگہ خون دل اپنی جگہ رنگ حنا اپنی جگہ کتنے چہرے آئے اپنا نور کھو کر چل دیے ہے مگر روشن ابھی تک آئنہ اپنی جگہ زندگی نے اس کو ساحل سے صدائیں دیں بہت وقت کا دریا مگر بہتا رہا اپنی جگہ اس کی محفل سے مجھے اب کوئی نسبت ہی نہیں ہے مری تنہائیوں کا سلسلہ ...

مزید پڑھیے

وہی درد ہے وہی بے بسی ترے گاؤں میں مرے شہر میں

وہی درد ہے وہی بے بسی ترے گاؤں میں مرے شہر میں بے غموں کی بھیڑ میں آدمی ترے گاؤں میں مرے شہر میں یہاں ہر قدم پہ سوال ہے وہاں ہر قدم پہ ملال ہے بڑی الجھنوں میں ہے زندگی ترے گاؤں میں مرے شہر میں کسے دوست اپنا بنائیں ہم کسے دل کا حال سنائیں ہم سبھی غیر ہیں سبھی اجنبی ترے گاؤں میں مرے ...

مزید پڑھیے

عقل و دانش کو زمانے سے چھپا رکھا ہے

عقل و دانش کو زمانے سے چھپا رکھا ہے خود کو دانستہ ہی دیوانہ بنا رکھا ہے گھر کی ویرانیاں لے جائے چرا کر کوئی اسی امید پہ دروازہ کھلا رکھا ہے بن گئے اونچے محل ان کی عبادت گاہیں نام دولت کا جہاں سب نے خدا رکھا ہے قابل رشک سے وہ دختر مفلس جس نے تنگ دستی میں بھی عزت کو بچا رکھا ہے جس ...

مزید پڑھیے

کوئی ثبوت جرم جگہ پر نہیں ملا

کوئی ثبوت جرم جگہ پر نہیں ملا ٹوٹے پڑے تھے آئنے پتھر نہیں ملا پتھر کے جیسی بے حسی اس کا نصیب ہے وہ قوم جس کو کوئی پیمبر نہیں ملا جب تک وہ جھوٹ کہتا رہا سر پہ تاج تھا سچ کہہ دیا تو تاج ہی کیا سر نہیں ملا ہم رات بھر جلیں بھی تمہیں روشنی بھی دیں ہم کو چراغ جیسا مقدر نہیں ملا شہر ستم ...

مزید پڑھیے

گوشے

چلو نہ اس کہنگی کو تج کر حیات کے اس وسیع جنگل میں ایسے گوشے تلاش کر لیں جو سالہا سال تک بشر کی عمیق نظروں سے بچ رہے ہیں گزرتے لمحوں کی گرد کی تہہ میں دب گئے ہیں ہے جن میں امکان زندگی کا ہے جن میں امکان روشنی کا قدیم گوشے جو جدتوں کے امین بھی ہیں

مزید پڑھیے

عید اس پری وش کی

پھوٹی لب نازک سے وہ اک شوخ سی لالی تھوڑی سی شفق عارض تاباں نے چرا لی پھر بام کی جانب اٹھے ابروئے ہلالی اور چاند نے شرما کے کہا عید مبارک چھیڑا وہ حسیں شب نے تمناؤں کا جادو لہرا گئی خلوت کدۂ ناز میں خوشبو ہولے سے سنورنے لگے احساس کے گیسو دی کس نے در دل پہ صدا عید مبارک جھلکا رخ ...

مزید پڑھیے

قوس قزح

کھنچی ہے قوس قزح آسمان پر سر شام! عجیب کیف سا ہے حیرت نظر میں نہاں! عجیب کیف سا جنسی بھی ماورائی بھی چھلکتے جسم کی گولائیوں کا راز ہے کیا! اور اس میں روح کی رنگین دھاریوں کا فسوں!؟ لطیف سطح تفکر پہ کھویا کھویا سا ابھر رہا ہے یہ پر کرب و پر سرور سوال یہ سات رنگ کی لہریں یہ دائرے کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5827 سے 6203