قومی زبان

چوٹ

اک روئے چلائے تڑپے کلپے اور کلپائے اک اک سے کہے رام کہانی دل کا درد بتائے من کی چوٹ دکھا بیچارہ سودائی کہلائے اک جھلائے طیش میں آئے بپھرے اور بل کھائے آنسو پی پی کر رہ جائے جان پہ دکھ سہہ جائے تیرے ساتھ لڑائی ٹھانے لیکن منہ کی کھائے اک چھپ چھپ کر نیر بہائے من کو یہ سمجھائے چپ چپ ...

مزید پڑھیے

ملاپ

ولولے سینوں میں غلطاں اور رگوں میں گرم خوں جوش برنائی وفور شوق افسردہ دلی زندگی موہوم دوراہا دھندلکے اور غبار کاہش سود و زیاں سعیٔ مسلسل اور فراق زندگی کی کلفتوں میں انتظار زندگی کاہش سود و زیاں اک بحر نا پیدا کنار حاصل عمر رواں ہے آج سونے کی جھلک اور اک جھنکار میں دو بچھڑی ...

مزید پڑھیے

بیوگ

من میں امنگیں جی میں ترنگیں روپ انوپ جوانی دنیا ایک کہانی من کی مینا چہکی میری دنیا مہکی جھوم جھوم کر گھوم رہی تھی میرے من میں آیا پھول کی شوبھا ہے کس کارن کیسی ہے بو باس جب نہیں بھونرا پاس مٹیں امنگیں بجھیں ترنگیں من سے اٹھی ہوک دب کر رہ گئی کوک بیت گیا دن شام ہوئی پھر چھا گئی ...

مزید پڑھیے

نام و ننگ

برتری اپنی کیا جتاتا ہے یہ کمائی تو تو بھی کھاتا ہے اتنا کہنا دلیل ہے گویا اور تو بھی اصیل ہے گویا دو شریفوں کی سن کے یہ تکرار میں کھڑا رہ گیا سر بازار اور حیرت میں ایسا غرق ہوا کالعدم ایک ایک فرق ہوا نازش اصل و رنگ کے افسوں غیرت نام و ننگ کے افسوں میں یہاں بھی سبھی قرینوں ...

مزید پڑھیے

دان

کس کی اٹھی ہے یہ ارتھی کملا سیٹھ لچھمن کی پڑوسن بیوہ سیٹھ دو گھوڑوں کی بگھی میں آتا ہے ادھر شہر کا سب سے بڑا دانی دیا لو دھنوان جس نے سونے کا چڑھایا ہے کلس مندر پر جس نے گئو شالا بھی بنوائی تھی جس کی مل میں ابھی پرسوں ہی چلی تھی گولی جس کے دروازے پہ مل جاتی ہے بھکشا لیکن بھوکی مر ...

مزید پڑھیے

اپنے حالات کا اسیر ہوں میں

اپنے حالات کا اسیر ہوں میں درد کی دولت کثیر ہوں میں جمع کر کر کے اپنی محرومی بن گیا کس قدر امیر ہوں میں میرے ظاہر کو دیکھنے والے ایک باطن غنی فقیر ہوں میں آزما لے تو جس طرح چاہے ہوں تو کم مایہ با ضمیر ہوں میں تو ہے انوار بیکراں تو بتا کس کا اک پارۂ منیر ہوں میں یہ سوال اب ترے ...

مزید پڑھیے

مری نگاہ کو جلووں کا حوصلہ دے دو

مری نگاہ کو جلووں کا حوصلہ دے دو گزر بسر کا کوئی بھی تو آسرا دے دو تمہاری بزم سے جاتا ہے نا مراد کوئی سفر بخیر کی جان وفا دعا دے دو عطا پہ حرف نہ آ جائے مانگنے سے مرے خدا ہو میرے تو پھر حسب مدعا دے دو مٹا دو میری نگاہوں سے تم نقوش تمام وگرنہ دوسرا مجھ کو اک آئنہ دے دو فریب شرح ...

مزید پڑھیے

مر جائیں گے پندار کا سودا نہ کریں گے

مر جائیں گے پندار کا سودا نہ کریں گے ایسا نہ کریں گے کبھی ایسا نہ کریں گے وہ زخم بھی پہنچایں کریں چارہ گری بھی یہ بھول کبھی میرے مسیحا نہ کریں گے پھوٹے گی سحر دیدۂ گریاں سے ہمارے خوں ریز تبسم کا اجالا نہ کریں گے آئے گا زباں پر نہ کبھی حرف شکایت ہم ذکر غزل میں بھی تمہارا نہ کریں ...

مزید پڑھیے

زلزلے سخت آتے رہے رات بھر

زلزلے سخت آتے رہے رات بھر گھر کو ڈھاتے گراتے رہے رات بھر آپ ہاں آتے جاتے رہے رات بھر وضع داری نبھاتے رہے رات بھر سارا دن نقش ان کا بناتے رہے بن گیا تو مٹاتے رہے رات بھر کوئی بھی ہم کو حاتم نہیں کہہ سکا گرچہ موتی لٹاتے رہے رات بھر دن میں سرمایہ کاری جو کی درد کی ہم خسارے چکاتے ...

مزید پڑھیے

کھلی جب آنکھ تو دیکھا کہ تھا بازار کا حلقہ

کھلی جب آنکھ تو دیکھا کہ تھا بازار کا حلقہ خدا معلوم کب ٹوٹا مرے پندار کا حلقہ طلوع شام بھی مجھ کو نوید صبح فردا ہے کہیں چمکے ہلال ابروئے خم دار کا حلقہ مرا خون تمنا ہے حنا بند کف قاتل جنون شوق کام آیا فراز دار کا حلقہ دل بت آشنا کچھ اس طرح سوئے حرم آیا برہمن جیسے نکلے توڑ کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5807 سے 6203