دامن کی فکر ہے نہ گریباں کی فکر ہے
دامن کی فکر ہے نہ گریباں کی فکر ہے اہل وطن کو فتنۂ دوراں کی فکر ہے گلشن کی فکر ہے نہ بیاباں کی فکر ہے اہل جنوں کو فصل بہاراں کی فکر ہے لوگوں کو اپنی فکر ہے لیکن مجھے ندیم بزم حیات و نظم گلستاں کی فکر ہے ہم مقتل حیات میں ہیں سر بکف مگر اہل ہوس کو اپنے دل و جاں کی فکر ہے ساحل سے دور ...