قومی زبان

دامن کی فکر ہے نہ گریباں کی فکر ہے

دامن کی فکر ہے نہ گریباں کی فکر ہے اہل وطن کو فتنۂ دوراں کی فکر ہے گلشن کی فکر ہے نہ بیاباں کی فکر ہے اہل جنوں کو فصل بہاراں کی فکر ہے لوگوں کو اپنی فکر ہے لیکن مجھے ندیم بزم حیات و نظم گلستاں کی فکر ہے ہم مقتل حیات میں ہیں سر بکف مگر اہل ہوس کو اپنے دل و جاں کی فکر ہے ساحل سے دور ...

مزید پڑھیے

غم حیات غم دل نشاط جاں گزرا

غم حیات غم دل نشاط جاں گزرا تمہارے ساتھ ہر اک لمحہ شادماں گزرا تڑپ کے درد سے فریاد کو جو لب کھولے ستم شعار زمانے پہ یہ گراں گزرا بدل دے رخ جو مری زندگی کے دھاروں کا وہ حادثہ مرے دل پر ابھی کہاں گزرا جواب طور‌ و تجلی کہیں گے اہل نظر جو دل کی راہ سے وہ حسن مہرباں گزرا بسا کے دل ...

مزید پڑھیے

انتشار و خوف ہر اک سر میں ہے

انتشار و خوف ہر اک سر میں ہے عافیت سے کون اپنے گھر میں ہے زندگی پر سب حقیقت کھل چکی تو ابھی تک خواب کے پیکر میں ہے مطمئن انساں کہیں پر بھی نہیں ایک سی حالت زمانے بھر میں ہے رات کی چٹان سے صبحیں تراش خواب کی تعبیر اسی پتھر میں ہے جھوٹ کی بن آئی ہے چاروں طرف سچ اگر ہے بھی تو پس ...

مزید پڑھیے

میں شب ہجر کیا کروں تنہا

میں شب ہجر کیا کروں تنہا یاد میں تیری گم رہوں تنہا ہیں ادھر گردشیں زمانے کی ہے مقابل ادھر جنوں تنہا کتنے بے نور ہیں یہ ہنگامے میں بھرے شہر میں بھی ہوں تنہا آدمی گھر گیا مسائل میں رہ گئی زیست بے سکوں تنہا وہ تو اس دور کے نہیں انساں مل گیا ہے جنہیں سکوں تنہا ہم سفر جب نیازؔ ...

مزید پڑھیے

کیسے رکھیں گے سر پہ کسی کا ادھار ہم

کیسے رکھیں گے سر پہ کسی کا ادھار ہم قرض وفا میں کرتے ہیں سر کا شمار ہم افسوس اسی چمن میں ہوئے بے وقار ہم جس کو کہ چاہتے رہے دیوانہ وار ہم الفاظ مدح خواں تھے قلم تھے بکے ہوئے کیسے تراش لیتے کوئی شاہ کار ہم ملنا ہمارا خاک میں ضائع نہ جائے گا دے جائیں گے چمن کو شعور بہار ہم کوئی ...

مزید پڑھیے

ہم نفس خواب جنوں کی کوئی تعبیر نہ دیکھ

ہم نفس خواب جنوں کی کوئی تعبیر نہ دیکھ رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ تو کسی حسن جہاں سوز کی تصویر نہ دیکھ اپنے گزرے ہوئے حالات کی تفسیر نہ دیکھ حسن تدبیر سے تقدیر بدل دے اپنی جو ہے حالات سے منسوب وہ تقدیر نہ دیکھ تو پرستار عمل ہے تو عمل کی خاطر خواب رنگیں کی قسم خواب ...

مزید پڑھیے

ہجر میں گزری ہے اس رات کی باتیں نہ کرو

ہجر میں گزری ہے اس رات کی باتیں نہ کرو آپ تجدید ملاقات کی باتیں نہ کرو دل نے ہر دور میں دنیا سے بغاوت کی ہے دل سے تم رسم و روایات کی باتیں نہ کرو ہمتیں قافلے والوں کی نہ ہوں پست کہیں رہرو گردش حالات کی باتیں نہ کرو چاہئے جوش طلب میرے شکستہ دل کو ایسے حالات میں صدمات کی باتیں نہ ...

مزید پڑھیے

قہقہے

دنیا سے کر کے پیار لگائیں گے قہقہے غم پر ہزار بار لگائیں گے قہقہے دنیا ہنسے گی اپنی حماقت پہ جب کبھی ہم اور بے شمار لگائیں گے قہقہے کچھ غم نہیں ہے ہم کو زمانے کا دوستو پت جھڑ ہو یا بہار لگائیں گے قہقہے گھر والے اس مرض سے پریشان ہوں تو کیا بے وجہ بار بار لگائیں گے قہقہے دیکھیں ...

مزید پڑھیے

میں کیا بنوں گا

جو ہے بات سچی وہ تم سے کہوں گا بڑا ہو کے یارو سنو کیا بنوں گا میں نیتا بنوں گا نہ دولت کے بل پر چلوں گا ہمیشہ ہی راہ عمل پر نہ چھوڑوں گا میں آج کا کام کل پر سدا بے غرض دیش سیوا کروں گا بڑا ہو کے یارو سنو کیا بنوں گا سپاہی بنوں گا مگر شانتی کا سبق دوں گا میں پیار کا دوستی کا سنواروں ...

مزید پڑھیے

گڑبڑ گھٹالا

چڑ چڑ چڑیا اڑتی ہے نیل گگن سے جڑتی ہے حقہ گڑ گڑ کرتا ہے دادا کا دم بھرتا ہے مرغا ککڑوں کوں بولے مرغی انڈوں پر ڈولے بطخیں کہتیں کیں قیں قیں ہم تو پانی پر تیریں میں میں میں بکرے کی سن گھوڑے میں ہیں اچھے گن گائے سویرے چلائے سارا چارا چر جائے بندر اچھلیں ڈالی پر آفت ٹوٹے مالی پر بچے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5800 سے 6203