قومی زبان

یہ سانحہ بھی عجب ہو گیا ہے رستے میں

یہ سانحہ بھی عجب ہو گیا ہے رستے میں جو رہنما تھا وہی کھو گیا ہے رستے میں کسی بھی آبلہ پا کو نہ مل سکی تسکین عجیب خار کوئی بو گیا ہے رستے میں عتاب جاں ہوئی گرد سفر کسی کے لئے کسی کو ابر کرم دھو گیا ہے رستے میں حدی کی لے کرو مدھم اے قافلے والو تھکن سے چور کوئی سو گیا ہے رستے ...

مزید پڑھیے

وہ پہلے فکر کو حرف کمال دیتا ہے

وہ پہلے فکر کو حرف کمال دیتا ہے پھر آگہی سے سخن کو اجال دیتا ہے مجھی کو لوگ بہت سخت جاں سمجھتے ہیں مجھی پہ ہر کوئی پتھر اچھال دیتا ہے وہ عکس بن کے اترتا ہے جب بھی آنکھوں میں تمام آئنے دل کے اجال دیتا ہے محبتوں کا اسے میری اعتبار نہیں مگر رقیبوں کو میری مثال دیتا ہے کسی کو پھول ...

مزید پڑھیے

ہمیں نصیب کوئی دیدہ ور نہیں ہوتا

ہمیں نصیب کوئی دیدہ ور نہیں ہوتا جو دسترس میں ہماری ہنر نہیں ہوتا میں روز اس سے یہیں ہم کلام ہوتا ہوں درون روح کسی کا گزر نہیں ہوتا جلا دئے ہیں کسی نے پرانے خط ورنہ فضا میں ایسا تو رقص شرر نہیں ہوتا محبتوں کے کئی اسم میں نے پڑھ ڈالے عجب طلسم ہے وا اس کا در نہیں ہوتا اگر میں شب ...

مزید پڑھیے

کسی طلب میں ہوا میں نہ در بدر اب کے

کسی طلب میں ہوا میں نہ در بدر اب کے رہا نگاہ کا محور بس اپنا گھر اب کے نہ جانے کتنے ہی رستے تھے منتظر لیکن سمٹ کے رہ گیا قدموں میں ہی سفر اب کے یہ انتظار کی شدت نہ تھی کبھی پہلے محیط لگتا ہے صدیوں پہ لمحہ بھر اب کے بہار لالہ و گل کے قصیدے ختم ہوئے خزاں کا مرثیہ پڑھتا ہے ہر شجر اب ...

مزید پڑھیے

ساکن ہے کوئی اور وطن اور کسی کا

ساکن ہے کوئی اور وطن اور کسی کا یہ روح کسی کی ہے بدن اور کسی کا سرخی ہے کہو کی مرے ہر سرو و سمن میں پڑھتا ہے قصیدہ یہ چمن اور کسی کا تسکین کا باعث ہے کسی اور کا پہلو احساس دلاتی ہے چبھن اور کسی کا آئینہ سمجھتے ہیں تجھے سب یہ الگ بات ہے تجھ میں مگر آئینہ پن اور کسی کا یہ پیار کا ...

مزید پڑھیے

عظمت شہر انا شان بشر کی صورت

عظمت شہر انا شان بشر کی صورت میرے شانوں پہ کوئی ہے مرے سر کی صورت روز اترتا ہے سمندر میں سنہرا سورج روز بن جاتی ہے اک دیدۂ تر کی صورت دل جو صحرا کے سرابوں سے مرا اوب گیا یاد آئی مجھے بھولے ہوئے گھر کی صورت آ کے نزدیک مرے جلنے کا منظر دیکھو دور سے شعلہ بھی لگتا ہے شرر کی ...

مزید پڑھیے

گردش وقت زمانے کی طرح ہے

گردش وقت زمانے کی طرح ہے زندگی عشق لڑانے کی طرح ہے جس کا چرچا ہو بہت ایسی خموشی روح میں شور مچانے کی طرح ہے ان کی آنکھوں میں ٹھہرنے کی تمنا بستر خواب سجانے کی طرح ہے اپنی قسمت کے ستارے کا تعاقب کسی روٹھے کو منانے کی طرح ہے اس کی آمد خوشی بھی ہو سخنؔ کیا جس کا آنا بھی نہ آنے کی ...

مزید پڑھیے

مہک رہا ہے تصور میں خواب کی صورت

مہک رہا ہے تصور میں خواب کی صورت کھلا کھلا سا وہ چہرہ گلاب کی صورت سوال اس سے عجب میری خامشی نے کیا ہنسی لبوں پہ تھی اس کے جواب کی صورت کتاب دل کا مری ایک باب ہو تم بھی تمہیں بھی پڑھتا ہوں میں اک نصاب کی صورت پکارا جب بھی مجھے تم نے دشت امکاں سے کوئی امید سی ابھری سراب کی ...

مزید پڑھیے

مجھے احساس یہ پل پل رہا ہے

مجھے احساس یہ پل پل رہا ہے کہ میرے سر سے سورج ڈھل رہا ہے خوشا ساتھی وہ پچھلے موسموں کے یہ تنہائی کا عالم کھل رہا ہے برائے شب جلاؤ مشعل جاں تھکا ماندہ یہ سورج ڈھل رہا ہے سفر میں یہ گماں ہے ہر قدم پر کہ میرے ساتھ کوئی چل رہا ہے رقم تھے جس پہ لمحے بیش قیمت وہ کاغذ آنسوؤں سے گل رہا ...

مزید پڑھیے

نئے اسلوب میں زندہ ہوئے ہیں

نئے اسلوب میں زندہ ہوئے ہیں تبھی تو حرف آئندہ ہوئے ہیں طلوع صبح کی امید کم تھی دعائے شب سے تابندہ ہوئے ہیں نہ کام آیا جہاں عرض ہنر بھی لب اظہار شرمندہ ہوئے ہیں بدن میں جیتے جی جو مر گئے تھے وہ اپنی روح میں زندہ ہوئے ہیں ہماری شعلگی سب سے جدا ہے بجھے ہیں ہم تو سوزندہ ہوئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5798 سے 6203