قومی زبان

ستم اس نے برسوں اٹھایا کیا

ستم اس نے برسوں اٹھایا کیا مگر رسم الفت نبھایا کیا ترے ہجر میں اے مہ اوج حسن فلک مجھ کو برسوں رلایا کیا نہ آنا تھا ان کو نہ آئے یہاں میں ہرچند ان کو بلایا کیا ہماری نہ اس نے سنی ایک بھی عدو حال اپنا سنایا کیا ہمیں واں کا جانا منع ہی رہا عدو ان کے گھر روز آیا کیا شب وصل وہ محو ...

مزید پڑھیے

جس گلستاں میں بسوں میں وہی ویرانہ بنے

جس گلستاں میں بسوں میں وہی ویرانہ بنے برق لوٹے وہیں جس جا مرا کاشانہ بنے تجھ سے کام اتنا تو اے ہمت مردانہ بنے برق لوٹی ہے جہاں پھر وہیں کاشانہ بنے ہم تو مٹ کر بھی نہ خشت خم مے خانہ بنے ہم سے خاک اچھی ہے جس خاک سے پیمانہ بنے آشنا ہو وہ ترا سب سے جو بیگانہ بنے ہوش اسی کے ہیں بجا جو ...

مزید پڑھیے

سو مزے اک نفس میں ملتے ہیں

سو مزے اک نفس میں ملتے ہیں سانس لینے سے زخم چھلتے ہیں تیرے ملنے کی جستجو میں ہم اس سے ملتے ہیں اس سے ملتے ہیں زخم ہوتے ہیں آہ سے تازہ اس ہوا سے یہ پھول کھلتے ہیں کر دیا غم نے کاہ شائق کو اب تو حضرت ہوا سے ہلتے ہیں سب سے ملتے ہیں وہ کہاں شائقؔ جس سے ملتے ہیں اس سے ملتے ہیں

مزید پڑھیے

دل و دیں کھو کے کوئی یاس کی دنیا نہ بنے

دل و دیں کھو کے کوئی یاس کی دنیا نہ بنے نہ بنے بت یہ خدا بھی ہوں تو بندا نہ بنے درد ہو اس دل سنگیں میں تو ہیرا نہ بنے پارس آہن کو جو چھو جائے تو سونا نہ بنے رہ گیا کھنچ کے ترا ایک ہی نقشہ ظالم قدرت اب چاہے بنانا بھی تو تجھ سا نہ بنے خود ہی پیغام ہم اپنا انہیں پہنچائیں گے کام مشکل ...

مزید پڑھیے

دوستو زندگی امانت ہے

دوستو زندگی امانت ہے سانس لینا بھی اک عبادت ہے وہ کہاں ہیں ہمیں نہیں معلوم جن کو انسان سے محبت ہے صاف کہنے میں شرم کیسی ہے آپ کو ہم سے کیا شکایت ہے صبح تا شام ایک ہنگامہ ملنے جلنے کی کس کو فرصت ہے حال احوال کیا بتائیں ہم کوئی تکلیف ہے نہ راحت ہے

مزید پڑھیے

میرے گھر سے اس کی یادوں کے مکیں جاتے نہیں

میرے گھر سے اس کی یادوں کے مکیں جاتے نہیں چھوڑ کر جیسے شجر اپنی زمیں جاتے نہیں تیرے در سے ہی ملے گا جو بھی ملتا ہے ہمیں ہم ترے در کے علاوہ اب کہیں جاتے نہیں تجھ کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا پر کیا کہیں آج بھی دل سے ترے نقش حسیں جاتے نہیں غم دیے ہیں زندگی نے غم سے مایوسی نہیں چھوڑ کر ...

مزید پڑھیے

نظر کی وسعتوں میں کل جہاں تھا

نظر کی وسعتوں میں کل جہاں تھا زمیں سے دور کتنا آسماں تھا مری کشتی بھنور میں ڈوب جاتی ہوا کی مد پہ لیکن بادباں تھا میں اس کی حرف گیری کر نا پایا وہ میری زندگی کا راز داں تھا تجھے پا کر تجھے کھویا ہے ہم نے یہی تو زندگی کا امتحاں تھا وہی گم ہو گیا رستے میں شاید جو رہبر تھا جو میر ...

مزید پڑھیے

زندگی تجھ سے پیار کیا کرتے

زندگی تجھ سے پیار کیا کرتے خواب کا اعتبار کیا کرتے تجھ کو فرصت نہیں تھی ملنے کی ہم ترا انتظار کیا کرتے جو بھی اپنے تھے ساتھ چھوڑ گئے غیر کا اعتبار کیا کرتے کس کو چاہت تھی چارہ سازی کی زخم اپنے شمار کیا کرتے راز کوئی نہیں تھا سینے میں تجھ پہ ہم آشکار کیا کرتے

مزید پڑھیے

بدلتے موسموں میں آب و دانہ بھی نہیں ہوگا

بدلتے موسموں میں آب و دانہ بھی نہیں ہوگا کہ پیڑوں پر پرندوں کا ٹھکانہ بھی نہیں ہوگا بہا لے جائیں گی موجیں کتاب زندگانی کو سنانے کے لیے کوئی فسانہ بھی نہیں ہوگا نواح جاں میں اک دن تم اتر کر دیکھ بھی لینا تمہارے پاس یادوں کا خزانہ بھی نہیں ہوگا تصور کی حدوں سے دور جا کر کیسے ...

مزید پڑھیے

بزم میں وہ بیٹھتا ہے جب بھی آگے سامنے

بزم میں وہ بیٹھتا ہے جب بھی آگے سامنے میں لرز اٹھتا ہوں اس کی ہر ادا کے سامنے تجھ کو ہر دم مانگتا ہوں جاگتا ہوں رات بھر اور کیسے ہاتھ پھیلاؤں خدا کے سامنے منحرف ہوتا گیا ہر شخص اپنی راہ سے کوئی ٹھہرا ہی نہیں اس کی صدا کے سامنے مجھ پہ ہی الزام رکھ کر ہر طرف رسوا کیا کوئی چارہ ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5796 سے 6203