قومی زبان

ملتفت جب سے نگاہ ناز ہے

ملتفت جب سے نگاہ ناز ہے اور ہی کچھ عشق کا انداز ہے گنگنایا نغمۂ دل حسن نے سارا عالم گوش بر آواز ہے پھیر کر منہ مسکرا کر دیکھنا یہ ستانے کا نیا انداز ہے مجھ کو مضطر دل کو بسمل کر گئی ہائے کیا ظالم نگاہ ناز ہے بحر عصیاں میں سراپا غرق ہوں ہاں مگر تیرے کرم پر ناز ہے دردؔ سے کیا ...

مزید پڑھیے

نگاہ حسن طلب احترام کس کا تھا

نگاہ حسن طلب احترام کس کا تھا کیا جو نظروں سے تو نے سلام کس کا تھا ملا جو روز ازل وہ پیام کس کا تھا ندا جو کان میں آئی وہ نام کس کا تھا جنون شوق سلامت کہ یہ بھی ہوش نہیں میں جس مقام پہ تھا وہ مقام کس کا تھا بکھر پڑی تھی ہر اک سو بہار لالہ و گل خدا ہی جانے لبوں پر کلام کس کا تھا بنا ...

مزید پڑھیے

روشن ہے زمانے میں افسانہ محبت کا

روشن ہے زمانے میں افسانہ محبت کا خورشید محبت ہے پیمانہ محبت کا اے زاہد ناداں وہ کیا دیر و حرم جانے دل جس کا ازل سے ہو دیوانہ محبت کا رنگین شعاعوں سے معمور ہے ہر ذرہ آباد تجلی ہے ویرانہ محبت کا قطرہ بھی مجھے اکثر دریا نظر آتا ہے جس دن سے پیا میں نے پیمانہ محبت کا جاری رہے مے ...

مزید پڑھیے

وہ ناز محبت دکھانا کسی کا

وہ ناز محبت دکھانا کسی کا منانا مرا روٹھ جانا کسی کا ستم پر ستم روز ڈھانا کسی کا مجھے سو طرح آزمانا کسی کا وہ رسوا ہوا کوچۂ عاشقی میں جو کہنا کسی نے نہ مانا کسی کا جو ہم پر بھی گرتی وہ برق تجلی تو ہم بھی سناتے فسانہ کسی کا عجب لطف تنہائی میں پا رہا ہوں تصور میں ہے آنا جانا کسی ...

مزید پڑھیے

ناشاد تھا ناشاد ہے معلوم نہیں کیوں

ناشاد تھا ناشاد ہے معلوم نہیں کیوں دل عشق میں برباد ہے معلوم نہیں کیوں دیکھا تھا کبھی خواب حسیں میں نے بھی اے دوست اتنا تو مجھے یاد ہے معلوم نہیں کیوں باقی ہے ابھی طول شب ہجر کا عالم دل شام سے ناشاد ہے معلوم نہیں کیوں برباد ہوا جس کے تغافل سے مرا دل دل میں وہی آباد ہے معلوم ...

مزید پڑھیے

زندگی کتنی خوش گوار ہے آج

زندگی کتنی خوش گوار ہے آج ہر طرف موسم بہار ہے آج نگہ شوق کو قرار ہے آج جلوۂ حسن آشکار ہے آج دل کا ہر زخم آج روشن ہے کتنا پر سوز انتظار ہے آج ان کی تصویر بات کرتی ہے ہجر کی شب بھی سازگار ہے آج کیفیت دل کی پوچھتے ہو کیا محو دیدار حسن یار ہے آج تذکرہ کل کا کیا مقدر ہے ان کی باتوں پہ ...

مزید پڑھیے

ایماں نواز گردش پیمانہ ہو گئی

ایماں نواز گردش پیمانہ ہو گئی ہم سے بھی ایک لغزش مستانہ ہو گئی کوئی تو بات شمع کے جلنے میں تھی ضرور جس پر نثار ہستیٔ پروانہ ہو گئی صد شکر آج ہو تو گئی ان سے گفتگو یہ اور بات ہے کہ حریفانہ ہو گئی اللہ رے اشک بارئ شمع شب فراق جو صبح ہوتے ہوتے اک افسانہ ہو گئی حیرتؔ کے غم کدے میں ...

مزید پڑھیے

مرہم زخم جگر ہو جائے

مرہم زخم جگر ہو جائے ایک ایسی بھی نظر ہو جائے اک اشارہ بھی اگر ہو جائے اس شب غم کی سحر ہو جائے صبح یہ فکر کہ ہو جائے شام شام کو یہ کہ سحر ہو جائے ہو نہ اتنا بھی پریشاں کوئی کہ زمانے کو خبر ہو جائے یوں تو جو کچھ بھی کسی پر گزرے دل نہ افسردہ مگر ہو جائے فکر فردا بھی کریں گے ...

مزید پڑھیے

کس نے ان کا شباب دیکھا ہے

کس نے ان کا شباب دیکھا ہے جس نے دیکھا ہے خواب دیکھا ہے آسماں پر ابھی تو دنیا نے ایک ہی آفتاب دیکھا ہے دیکھنے کو تو حسن ہم نے بھی اک سے اک انتخاب دیکھا ہے چند ذی قلب تھے جنہیں ہم نے صرف صد اضطراب دیکھا ہے سننے والے بھی جس کو سن نہ سکیں ہم نے وہ انقلاب دیکھا ہے جب سے بدلی ہے وہ ...

مزید پڑھیے

وہ جسے دیدہ وری کہتے ہیں

وہ جسے دیدہ وری کہتے ہیں ہم اسے بے بصری کہتے ہیں نام اس کا ہے اگر با خبری پھر کسے بے خبری کہتے ہیں یہ اگر لطف و کرم ہے تو کسے جور و بے دادگری کہتے ہیں کیا اسی کار‌ نظر بندی کو حسن کی جلوہ گری کہتے ہیں گل کے اوراق پہ کانٹوں کا گماں کیا اسے خوش نظری کہتے ہیں بہر بیمار دوا ہے نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5794 سے 6203