قومی زبان

ترے غموں سے عبارت ہے اب خوشی میری

ترے غموں سے عبارت ہے اب خوشی میری گزر رہی ہے سلیقے سے زندگی میری کبھی جو ذرۂ خاکی کا کوئی ذکر چھڑا نگاہ اٹھ کے ستاروں پہ جم گئی میری یہ اور بات کہ جینے کا لطف آ نہ سکا ترے بغیر بھی گزری ہے زندگی میری وہ کیف ہے کہ اب آپا بھی کوئی ہوش نہیں یہ کس مقام پہ لائی ہے بے خودی میری پلک پلک ...

مزید پڑھیے

نا مکمل ہیں ابھی تکملۂ ذات کریں

نا مکمل ہیں ابھی تکملۂ ذات کریں ان کو دیکھیں تو خود اپنے سے ملاقات کریں آپ آئیں تو ذرا آپ سے کچھ بات کریں ہونٹ سی لیں مگر آنکھوں سے سوالات کریں گردشوں سے یہ کہو رخ نہ کریں گھر کی طرف اب وہ ہم سے سر مے خانہ ملاقات کریں آپ کے بارے میں سوچا تو بہت تھا لیکن اب ہم اس سوچ میں ہیں آپ سے ...

مزید پڑھیے

پھول غم کے کھلے رہے برسوں

پھول غم کے کھلے رہے برسوں درد کے سلسلے رہے برسوں زندگی تھی بہت عزیز مگر زندگی سے گلے رہے برسوں ان گلوں کے نسب کا کیا کہنا دھوپ میں جو کھلے رہے برسوں عشق تھی بات ایک لمحے کی ہونٹ اپنے سلے رہے برسوں دوستوں کی تو بات اپنی جگہ ہم کو خود ہی گلے رہے برسوں ایک تعبیر بھی ملی نہ ...

مزید پڑھیے

زخم درکار ہیں سینے کے لیے

زخم درکار ہیں سینے کے لیے کچھ نہ کچھ چاہیے جینے کے لیے میکدہ تیرا سلامت ساقی آ گئے تھے یوں ہی پینے کے لیے گھٹ کے رہ جاتی ہے آواز کی لو ہر نفس بوجھ ہے سینے کے لیے زندگی کیا ہے یہ کس کو معلوم لوگ بس جیتے ہیں جینے کے لیے کوئی اندیشۂ طوفاں بھی نہیں غم یہ کیا کم ہے سفینے کے لیے میں ...

مزید پڑھیے

جان اپنی چلی جائے ہے جائے سے کسو کے (ردیف .. ی)

جان اپنی چلی جائے ہے جائے سے کسو کے اور جان میں جان آئے ہے آئے سے کسو کے وہ آگ لگی پان چبائے سے کسو کے اب تک نہیں بجھتی ہے بجھائے سے کسو کے بجھنے دے ذرا آتش دل اور نہ بھڑکا مہندی نہ لگا یار لگائے سے کسو کے کیا سوئے پھر غل ہے در یار پہ شاید چونکا ہے وہ زنجیر ہلائے سے کسو کی کہہ دو ...

مزید پڑھیے

پاسبانوں پاسبانی دیکھ لی

پاسبانوں پاسبانی دیکھ لی ہر نظر کی مہربانی دیکھ لی آئے بولے ہنس دیے پھر چل پڑے چار روزہ زندگانی دیکھ لی اب چمن کا رنگ رنگیں ہو چکا باغباں کی باغبانی دیکھ لی گل کا دامن چاک دیکھا رات کو صبح کو پھر نوحہ خوانی دیکھ لی مالی گلشن کا وہ ظلم و ستم بلبلوں کی بے زبانی دیکھ لی جن لبوں ...

مزید پڑھیے

جادۂ مے پہ گزر خوابوں کا

جادۂ مے پہ گزر خوابوں کا مڑ گیا سیل کدھر خوابوں کا زندگی عظمت حاضر کے بغیر اک تسلسل ہے مگر خوابوں کا ظلمتیں وحشت فردا سے نڈھال ڈھونڈھتی پھرتی ہیں گھر خوابوں کا قریۂ ماہ سے اس بستی تک روز ہوتا ہے گزر خوابوں کا صبح نو روز بھی دل کش ہے عروجؔ اس قدر رنج نہ کر خوابوں کا

مزید پڑھیے
صفحہ 5785 سے 6203