قومی زبان

غیر آباد علاقے کی فضا کیسی ہے

غیر آباد علاقے کی فضا کیسی ہے دل سے اٹھتی ہے جو رہ رہ کے صدا کیسی ہے میرے پیروں سے لپٹتی ہی رہی موج رواں ریت سے کر نہ سکی مجھ کو جدا کیسی ہے ٹوٹ کر آئی ہے لہرائی ہے چاروں جانب یہ برستی ہی نہیں کالی گھٹا کیسی ہے پتیاں دھوپ میں کمھلا گئیں پھیکے ہوئے رنگ چھاؤں اتری ہی نہیں آب و ہوا ...

مزید پڑھیے

دشت افکار میں سوکھے ہوئے پھولوں سے ملے

دشت افکار میں سوکھے ہوئے پھولوں سے ملے کل تری یاد کے معتوب رسولوں سے ملے اپنی ہی ذات کے صحرا میں سلگتے ہوئے لوگ اپنی پرچھائیں سے ٹکرائے ہیولوں سے ملے گاؤں کی سمت چلی دھوپ دوشالا اوڑھے تاکہ باغوں میں ٹھٹھرتے ہوئے پھولوں سے ملے کون اڑتے ہوئے رنگوں کو گرفتار کرے کون آنکھوں میں ...

مزید پڑھیے

وہ شخص جس نے خود اپنا لہو پیا ہوگا

وہ شخص جس نے خود اپنا لہو پیا ہوگا جیا تو ہوگا مگر کس طرح جیا ہوگا تمہارے شہر میں آنے کی جس کو حسرت تھی تمہارے شہر میں آ کر وہ رو پڑا ہوگا کسی کی یاد کی آہٹ سی ہے در دل پر کسی نے آج مرا نام لے لیا ہوگا وہ اجنبی تری بانہوں میں جو رہا شب بھر کسے خبر کہ وہ دن بھر کہاں رہا ہوگا تمہارے ...

مزید پڑھیے

پنچھیوں کے روبرو کیا ذکر ناداری کروں

پنچھیوں کے روبرو کیا ذکر ناداری کروں پنکھ ٹوٹے ہی سہی اڑنے کی تیاری کروں چھوڑ جاؤں اپنے پیچھے عالم حیرت تمام موت کے پہلو میں چھپ کر شعبدہ کاری کروں ناچتی ہے جنبش انگشت پر وہ فاحشہ زندگی کہہ کر جسے خود سے ریاکاری کروں سبز پودوں کی طرف بڑھنے لگی سرکش ہوا اس کے کپڑے نوچ لوں ...

مزید پڑھیے

پھول سا جسم نہ رستے میں جلایا کیجئے

پھول سا جسم نہ رستے میں جلایا کیجئے میں صنوبر ہوں مری چھاؤں میں آیا کیجئے اور کیا چاہئے اس دور کے انسانوں کو صرف دو چار گھڑی ساتھ بتایا کیجئے آپ ساگر ہیں تو سیراب کریں پیاسے کو آپ بادل ہیں تو مجھ دشت پہ سایا کیجئے آپ سے نور کی خیرات طلب کرتے ہیں بن کے خورشید نہ پھولوں کو جلایا ...

مزید پڑھیے

مجھ سے کہتے ہیں کہ میں ظلم سہوں کچھ نہ کہوں

مجھ سے کہتے ہیں کہ میں ظلم سہوں کچھ نہ کہوں حرف حق صرف کتابوں میں پڑھوں کچھ نہ کہوں ہاں وہی ہاتھ مرے جیسوں کا قاتل ہے مگر میں اسی ہاتھ کو مضبوط کروں کچھ نہ کہوں دوسرا کون جسے پیش کروں سر اپنا دشمن جاں ہی سہی قدر کروں کچھ نہ کہوں

مزید پڑھیے

پیار بھرا تہوار

سورج اپنی پچکاری سے کرتا ہے یلغار صبح کے اجلے دامن پہ ہے رنگا رنگ بہار نیلے پیلے لال گلابی رنگوں کی بوچھار جھومیں ناچیں دھوم مچائیں گلیاں اور بازار باجے تاشے سیر تماشے لے کر جاگی بھور رنگ کے اندر رنگ جگائے ہولی چاروں اور مستوں کی ٹولی کے پیچھے ہے مستوں کا شور آج ترنگوں اور ...

مزید پڑھیے

ایک چھبیلی عید

ایک چھبیلی نئی نویلی سندر پیاری لڑکی نئے چاند کی نورانی کشتی سے نیچے اتری آسمان سے لے کر زمیں تک پھول گرائے اس نے جدھر جدھر سے گزری گھر آنگن مہکائے اس نے اک البیلی نئی نویلی دودھ سی اجلی لڑکی شیر خورمہ اور سوئیاں کھاتی کھلاتی آئی نردھن اور دھنوان سبھی سے ہنستی ہنساتی آئی قدم ...

مزید پڑھیے

اگر ہو آدمیت آدمی میں

ہزاروں سال کی بوڑھی ہے دنیا مگر پھر بھی نئی لگتی ہے دنیا وہی ساگر وہی ان کی روانی وہی پربت وہی ان کی جوانی وہی جنگل وہی اشجار ان کے وہی منظر وہی اسرار ان کے وہی بادل ہزاروں روپ والے چمکتے دن سنہری دھوپ والے وہی دن رات کے منظر سہانے وہی پنچھی وہی ان کے ترانے وہی گلشن وہی ان کی ...

مزید پڑھیے

بہار سب کے لئے

سرمئی پہاڑوں پر یہ ہرے بھرے جنگل شاخ شاخ ہریالی چومتے ہوئے پنچھی چار سو فضاؤں میں زندگی مہکتی ہے پھول مسکراتے ہیں رنگ و نور کی چادر اوڑھ کر ہوا نکلی آسمان روشن ہے دور تک زمیں اپنی بانہہ کھولے ماں جیسی کھیلتے پرندوں کو پیار سے بلاتی ہے تتلیوں کے جھرمٹ سے ایک ایک پگڈنڈی بے نظیر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5777 سے 6203