گریزاں تھا مگر ایسا نہیں تھا
گریزاں تھا مگر ایسا نہیں تھا یہ میرا ہم سفر ایسا نہیں تھا یہاں مہماں بھی آتے تھے ہوا بھی بہت پہلے یہ گھر ایسا نہیں تھا یہاں کچھ لوگ تھے ان کی مہک تھی کبھی یہ رہ گزر ایسا نہیں تھا رہا کرتا تھا جب وہ اس مکاں میں تو رنگ بام و در ایسا نہیں تھا بس اک دھن تھی نبھا جانے کی اس کو گنوانے ...