احساس
لمحات کا ہیولیٰ کچھ بھولنے لگا تھا آواز کا سراپا کچھ اونگھنے لگا تھا سناٹا پا شکستہ کچھ بولنے لگا تھا وحشت زدہ سا کمرہ کچھ ڈھونڈنے لگا تھا میرا شعور زد میں تحت شعور کی تھا
لمحات کا ہیولیٰ کچھ بھولنے لگا تھا آواز کا سراپا کچھ اونگھنے لگا تھا سناٹا پا شکستہ کچھ بولنے لگا تھا وحشت زدہ سا کمرہ کچھ ڈھونڈنے لگا تھا میرا شعور زد میں تحت شعور کی تھا
وہ جو پیڑ کھڑا ہے لوگو اونچا کالا لہرا کر کے پاس بلاتا اس کے ٹھنڈے سائے میں مت رکنا لوگو اس کا یہ سایہ متحرک ہے
تحت شعور کی تاریکی میں اک پژمردہ گل لالہ کے سرخ و سیہ پنکھڑیوں کے ریزے پچھلے اٹھارہ برسوں سے سسک رہے ہیں
چلتے ہوئے مجھ میں کہیں ٹھہرا ہوا تو ہے رستہ نہیں منزل نہیں اچھا ہوا تو ہے تعبیر تک آتے ہی تجھے چھونا پڑے گا لگتا ہے کہ ہر خواب میں دیکھا ہوا تو ہے مجھ جسم کی مٹی پہ ترے نقش کف پا اور میں بھی بڑا خوش کہ ارے کیا ہوا تو ہے میں یوں ہی نہیں اپنی حفاظت میں لگا ہوں مجھ میں کہیں لگتا ہے ...
ہم ایسے سوئے بھی کب تھے ہمیں جگا لاتے کچھ ایک خواب تو شب خون سے بچا لاتے زیاں تو دونوں طرح سے ہے اپنی مٹی کا ہم آب لاتے کہ اپنے لیے ہوا لاتے پتہ جو ہوتا کہ نکلے گا چاند جیسا کچھ ہم اپنے ساتھ ستاروں کو بھی اٹھا لاتے ہمیں یقین نہیں تھا خود اپنی رنگت پر ہم اس زمیں کی ہتھیلی پہ رنگ ...
در خیال بھی کھولیں سیاہ شب بھی کریں پھر اس کے بعد تجھے سوچیں یہ غضب بھی کریں وہ جس نے شام کے ماتھے پہ ہاتھ پھیرا ہے ہم اس چراغ ہوا ساز کا ادب بھی کریں سیاہیاں سی بکھرنے لگی ہیں سینے میں اب اس ستارۂ شب تاب کی طلب بھی کریں یہ امتیاز ضروری ہے اب عبادت میں وہی دعا جو نظر کر رہی ہے لب ...
سرخ سحر سے ہے تو بس اتنا سا گلہ ہم لوگوں کا ہجر چراغوں میں پھر شب بھر خون جلا ہم لوگوں کا ہم وحشی تھے وحشت میں بھی گھر سے کبھی باہر نہ رہے جنگل جنگل پھر بھی کتنا نام ہوا ہم لوگوں کا اور تو کچھ نقصان ہوا ہو خواب میں یاد نہیں ہے مگر ایک ستارہ ضرب سحر سے ٹوٹ گیا ہم لوگوں کا یہ جو ہم ...
ابھی تو آپ ہی حائل ہے راستا شب کا قریب آئے تو دیکھیں گے حوصلہ شب کا چلی تو آئی تھی کچھ دور ساتھ ساتھ مرے پھر اس کے بعد خدا جانے کیا ہوا شب کا مرے خیال کے وحشت کدے میں آتے ہی جنوں کی نوک سے پھوٹا ہے آبلہ شب کا سحر کی پہلی کرن نے اسے بکھیر دیا مجھے سمیٹنے آیا تھا جب خدا شب کا زمیں ...
آبروئے شب تیرہ نہیں رکھنے والے ہم کہیں پر بھی اندھیرا نہیں رکھنے والے آئنہ رکھنے کا الزام بھی آیا ہم پر جب کہ ہم لوگ تو چہرا نہیں رکھنے والے ہم پہ فرہاد کا کچھ قرض نکلتا ہے سو ہم تم کہو بھی تو یہ تیشہ نہیں رکھنے والے ہم کو معلوم ہیں از روئے محبت سو ہم کوئی بھی درد زیادہ نہیں ...
خلا کے جیسا کوئی درمیان بھی پڑتا پھر اس سفر میں کہیں آسمان بھی پڑتا میں چوٹ کر تو رہا ہوں ہوا کے ماتھے پر مزا تو جب تھا کہ کوئی نشان بھی پڑتا عجیب خواہشیں اٹھتی ہیں اس خرابے میں گزر رہے ہیں تو اپنا مکان بھی پڑتا ہمیں جہان کے پیچھے پڑے رہیں کب تک ہمارے پیچھے کبھی یہ جہان بھی ...