قومی زبان

ایک سورما کے نام

آنے والے دن کے آخر پر سورج ٹوٹی ہوئی ڈھال کی طرح افق پر چسپاں ایک حنوط کیا ہوا سر کسی سورما کا جو وقت سے ہار گیا! بگولے ایسی ہوا اور ایک رنگا ہوا گھوڑا لہو لہان دل ہمیشہ گھڑ لیتا ہے ایک دنیا اپنے لیے محبت کہیں زیادہ سفاک ہے نفرت سے کیوں کہ یہ اچھوتی اور اجلی ہے اس ستارے کی طرح جو ...

مزید پڑھیے

حسن نجات دہندہ ہے

صرف حسن ہاں، صرف حسن نجات دہندہ ہے آنکھوں کا جو گھٹیا پنجروں میں قید ہے اور معمولی مناظر میں محبوس کسی گلی سڑی لا یعنیت کی طرح نجس کسی بھولے ہوئے لفظ کی طرح آسیب زدہ کیوں نہیں بوجھ لیتی اولاد آدم کہ کھل جائے گا سارا چھپاؤ ایک ہیبت ناک خالی ٹھہراؤ میں جو ایک سفاک بیداری سے مہر ...

مزید پڑھیے

آنکھوں کی تجدید

آخر کار میرے دوست تم نے آنکھوں کی تجدید کا فیصلہ کر ہی ڈالا ان دیکھے کی دید ایجاد کرنے کے لیے تم نے کیسے دریافت کیا کہ چیزیں ایک اصیل نگاہ کے قابل نہیں رہیں یہ ساری کائنات ایک سپاٹ تصویر ہے جس سے اتنی جگہ بھی نہیں بھری جا سکتی جو تمہارے کینوس میں خلقۃً موجود ہے تم نے بہتر جانا کہ ...

مزید پڑھیے

آندھی کا رجز

سناٹوں کی تہ میں غاصبانہ رفتار سے بڑھتا ہوا کسی مسروقہ راز کا دبیز خلا اور اس میں تیزی سے گردش کرتا ہوا ایک جلا وطن سیارہ کسی اجاڑ کہکشاں کو نہ چھوڑنے پر مصر روشنی کی باقی ماندہ آواز اور شکستہ آفاق کے خاکستری گہراؤ میں سورج کے فوری غیاب کے مٹتے ہوئے آثار مجھے بچانا ہے اس ...

مزید پڑھیے

ان پڑھ گونگے کا رجز

خاموشی میرا لشکر ہے لفظوں کی دلدل اور اس میں پلنے والی جونکیں یہ متعفن آوازیں میری یلغار کے آگے ثابت قدم رہیں گی؟ کیا تم واقعی ایسا سمجھتے ہو کہ تمہارے میدان اتنے فراخ ہیں کہ میرے اسپ اصیل کو تھکا دیں گے تمہارے سمندر اتنے مواج ہیں کہ میرا رزق الٹ دیں گے اور تمہارے پہاڑ اتنے ...

مزید پڑھیے

بے زاری کی آخری ساعت

جب پہاڑ ڈھے جائیں گے اپنے ہی بوجھ سے سمندر ڈوب جائیں گے اپنی ہی گہرائی میں سورج جل جائیں گے اپنی ہی آگ میں تو ایک آدمی دیکھ رہا ہوگا یہ منظر بے زاری کے ساتھ

مزید پڑھیے

ایک تاثر

خاموشی ہمیشہ سے اتنی ہی گہری ہے جتنی کہ کینوس سے ماورا تصویر تم ایسا نہیں سمجھتے کیا؟ آنکھیں جو ہمیں دی گئی ہیں کسی اناڑی مصور کہ گھڑی ہوئی آگ کے شعلۂ سیاہ کے بالمقابل کافی ہیں نظر انداز کرنے کے لیے ہر چیز کو جو ظاہر ہے رنگینی کے ساتھ یہ اعلیٰ درجے کی سنجیدگی ہے ایک مکمل دماغ ...

مزید پڑھیے

یہ جو اک سیل فنا ہے مرے پیچھے پیچھے

یہ جو اک سیل فنا ہے مرے پیچھے پیچھے میرے ہونے کی سزا ہے مرے پیچھے پیچھے آگے آگے ہے مرے دل کے چٹخنے کی صدا اور مری گرد انا ہے مرے پیچھے پیچھے زندگی تھک کے کسی موڑ پہ رکتی ہی نہیں کب سے یہ آبلہ پا ہے مرے پیچھے پیچھے اپنا سایہ تو میں دریا میں بہا آیا تھا کون پھر بھاگ رہا ہے مرے ...

مزید پڑھیے

پردۂ محمل اٹھے تو راز ویرانہ کھلے

پردۂ محمل اٹھے تو راز ویرانہ کھلے راز ویرانہ کھلے تب جا کے دیوانہ کھلے بار ہفت افلاک بھی اس ناتواں شانے پہ ہے زلف سے کہنا کہ آہستہ سر شانہ کھلے قامت پروانہ قد شمع سے کم ہے ابھی کیمیا ہو لے ذرا تو قد پروانہ کھلے جب طلسم آئینہ خود ہو نقاب آئینہ چشم پر کیسے حجاب آئینہ خانہ ...

مزید پڑھیے

جب سے اک چاند کی چاہت میں ستارا ہوا ہوں

جب سے اک چاند کی چاہت میں ستارا ہوا ہوں شہر شب زاد کی آنکھوں کا سہارا ہوا ہوں اے مرے درد کے دریا کی روانی مجھے دیکھ میں ترے قرب سے کٹ کٹ کے کنارہ ہوا ہوں زندگی! تجھ سا منافق بھی کوئی کیا ہوگا تیرا شہکار ہوں اور تیرا ہی مارا ہوا ہوں بجھ گئے جب مرے سب خواب و چراغ و مہتاب شہر ظلمت کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5592 سے 6203