قومی زبان

ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھے

ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھے کس کو سیراب کرے وہ کسے پیاسا رکھے عمر بھر کون نبھاتا ہے تعلق اتنا اے مری جان کے دشمن تجھے اللہ رکھے ہم کو اچھا نہیں لگتا کوئی ہم نام ترا کوئی تجھ سا ہو تو پھر نام بھی تجھ سا رکھے دل بھی پاگل ہے کہ اس شخص سے وابستہ ہے جو کسی اور کا ہونے دے نہ ...

مزید پڑھیے

آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا

آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا اتنا مانوس نہ ہو خلوت غم سے اپنی تو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈر جائے گا ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوں میں نہیں کوئی تو ساحل پہ اتر جائے گا زندگی تیری عطا ہے تو یہ جانے والا تیری بخشش تری دہلیز پہ دھر ...

مزید پڑھیے

اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں

اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں یاد کیا تجھ کو دلائیں ترا پیماں جاناں یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں زندگی تیری عطا تھی سو ترے نام کی ہے ہم نے جیسے بھی بسر کی ترا احساں جاناں دل یہ کہتا ہے کہ شاید ہے فسردہ تو بھی دل کی کیا بات کریں ...

مزید پڑھیے

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ even if you are annoyed come just to give me pain come even if you have to then leave me yet again کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھ تو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لیے آ the notion of my love's self-pride please do pacify you should surely come one day and try to mollify پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی ...

مزید پڑھیے

کیا ایسے کم سخن سے کوئی گفتگو کرے

کیا ایسے کم سخن سے کوئی گفتگو کرے جو مستقل سکوت سے دل کو لہو کرے اب تو ہمیں بھی ترک مراسم کا دکھ نہیں پر دل یہ چاہتا ہے کہ آغاز تو کرے تیرے بغیر بھی تو غنیمت ہے زندگی خود کو گنوا کے کون تری جستجو کرے اب تو یہ آرزو ہے کہ وہ زخم کھائیے تا زندگی یہ دل نہ کوئی آرزو کرے تجھ کو بھلا کے ...

مزید پڑھیے

یوں ہی مر مر کے جئیں وقت گزارے جائیں

یوں ہی مر مر کے جئیں وقت گزارے جائیں زندگی ہم ترے ہاتھوں سے نہ مارے جائیں اب زمیں پر کوئی گوتم نہ محمد نہ مسیح آسمانوں سے نئے لوگ اتارے جائیں وہ جو موجود نہیں اس کی مدد چاہتے ہیں وہ جو سنتا ہی نہیں اس کو پکارے جائیں باپ لرزاں ہے کہ پہنچی نہیں بارات اب تک اور ہم جولیاں دلہن کو ...

مزید پڑھیے

ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں

ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں فرازؔ اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں جدائیاں تو مقدر ہیں پھر بھی جان سفر کچھ اور دور ذرا ساتھ چل کے دیکھتے ہیں رہ وفا میں حریف خرام کوئی تو ہو سو اپنے آپ سے آگے نکل کے دیکھتے ہیں تو سامنے ہے تو پھر کیوں یقیں نہیں آتا یہ بار بار جو آنکھوں کو مل ...

مزید پڑھیے

زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے

زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے تو محبت سے کوئی چال تو چل ہار جانے کا حوصلہ ہے مجھے دل دھڑکتا نہیں ٹپکتا ہے کل جو خواہش تھی آبلہ ہے مجھے ہم سفر چاہیئے ہجوم نہیں اک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے کوہ کن ہو کہ قیس ہو کہ فرازؔ سب میں اک شخص ہی ملا ہے مجھے

مزید پڑھیے

ایسے چپ ہیں کہ یہ منزل بھی کڑی ہو جیسے

ایسے چپ ہیں کہ یہ منزل بھی کڑی ہو جیسے تیرا ملنا بھی جدائی کی گھڑی ہو جیسے اپنے ہی سائے سے ہر گام لرز جاتا ہوں راستے میں کوئی دیوار کھڑی ہو جیسے کتنے ناداں ہیں ترے بھولنے والے کہ تجھے یاد کرنے کے لیے عمر پڑی ہو جیسے تیرے ماتھے کی شکن پہلے بھی دیکھی تھی مگر یہ گرہ اب کے مرے دل ...

مزید پڑھیے

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے جشن مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی پا بجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5585 سے 6203