دور تک بس اک دھندلکا گرد تنہائی کا تھا
دور تک بس اک دھندلکا گرد تنہائی کا تھا راستوں کو رنج میری آبلہ پائی کا تھا فصل گل رخصت ہوئی تو وحشتیں بھی مٹ گئیں ہٹ گیا سایہ جو اک آسیب صحرائی کا تھا توڑ ہی ڈالا سمندر نے طلسم خود سری زعم کیا کیا ساحلوں کو اپنی پہنائی کا تھا اور مبہم ہو گیا پیہم ملاقاتوں کے ساتھ وہ جو اک موہوم ...