بہت سجائے تھے آنکھوں میں خواب میں نے بھی
بہت سجائے تھے آنکھوں میں خواب میں نے بھی سہے ہیں اس کے لیے یہ عذاب میں نے بھی جدائیوں کی خلش اس نے بھی نہ ظاہر کی چھپائے اپنے غم و اضطراب میں نے بھی دیئے بجھا کے سر شام سو گیا تھا وہ بتائی سو کے شب ماہتاب میں نے بھی یہی نہیں کہ مجھے اس نے درد ہجر دیا جدائیوں کا دیا ہے جواب میں نے ...