تمہیں خیال ذات ہے شعور ذات ہی نہیں
تمہیں خیال ذات ہے شعور ذات ہی نہیں خطا معاف یہ تمہارے بس کی بات ہی نہیں غزل فضا بھی ڈھونڈتی ہے اپنے خاص رنگ کی ہمارا مسئلہ فقط قلم دوات ہی نہیں ہماری ساعتوں کے حصہ دار اور لوگ ہیں ہمارے سامنے فقط ہماری ذات ہی نہیں ورق ورق پہ ڈائری میں آنسوؤں کا نم بھی ہے یہ صرف بارشوں سے بھیگے ...