جو ہو نہ سکا ہم سے وہ کر جاؤ تم
جو ہو نہ سکا ہم سے وہ کر جاؤ تم اس پار سے اس پار اتر جاؤ تم ہم دیتے رہے چرخ فلک کو الزام ممکن ہو تو اس سے بھی گزر جاؤ تم
جو ہو نہ سکا ہم سے وہ کر جاؤ تم اس پار سے اس پار اتر جاؤ تم ہم دیتے رہے چرخ فلک کو الزام ممکن ہو تو اس سے بھی گزر جاؤ تم
پھرتی ہوں لیے سوز حیات آنکھوں میں ہے جلوہ نما غم کی برات آنکھوں میں عمر اپنی کچھ اس طرح بتائی میں نے جس طرح کوئی کاٹ دے رات آنکھوں میں
سانسوں میں لیے کرب و بلا جیتا ہوں سلتے نہیں جو زخم انہیں سیتا ہوں جی بھر کے زمانے نے پیا خوں میرا باقی جو بچا اس کو میں خود پیتا ہوں
جینے کی بظاہر نہیں کچھ آس ہمیں لے ڈوبے گی اک روز یہی پیاس ہمیں لو ختم ہوا آج فریب امید اب یاس کی جانب سے بھی ہے یاس ہمیں
آسودگیٔ ذات نہیں ہو سکتی سیرابئ جذبات نہیں ہو سکتی جو اتنی تنک مایہ ہو دنیا اس میں میری گزر اوقات نہیں ہو سکتی
اک تیر کلیجے میں پرویا ہم نے اک زخم دل زار میں بویا ہم نے لوٹا کیے پھر عمر بھر آہوں کے مزے یوں جنت و دوزخ کو سمویا ہم نے
آتا نہیں سانسوں میں مزہ پنے کا کھلتا ہی نہیں زخم مرے سینے کا ہر روز اگر ایک رباعی نہ کہوں ہوتا نہیں حق جیسے ادا جینے کا
آفات و حوادث سے بھری ہے دنیا دکھڑوں سے غرض پٹی پڑی ہے دنیا زنہار تعلی نہیں میرا یہ قول میرے ہی لیے خلق ہوئی ہے دنیا
اب کہاں ہوں کہاں نہیں ہوں میں جس جگہ ہوں وہاں نہیں ہوں میں کون آواز دے رہا ہے مجھے؟ کوئی کہہ دو یہاں نہیں ہوں میں
غم دل کا علاج دنیا میں شاید اس کے سوا کچھ اور نہ ہو کہ زمانے کے سارے تیر ستم اپنے دل میں پرو کے بیٹھ رہو