نہیں مقام کی خوگر طبیعت آزاد
نہیں مقام کی خوگر طبیعت آزاد ہوائے سیر مثال نسیم پیدا کر ہزار چشمہ ترے سنگ راہ سے پھوٹے خودی میں ڈوب کے ضرب کلیم پیدا کر
نہیں مقام کی خوگر طبیعت آزاد ہوائے سیر مثال نسیم پیدا کر ہزار چشمہ ترے سنگ راہ سے پھوٹے خودی میں ڈوب کے ضرب کلیم پیدا کر
فطرت مری مانند نسیم سحری ہے رفتار ہے میری کبھی آہستہ کبھی تیز پہناتا ہوں اطلس کی قبا لالہ و گل کو کرتا ہوں سر خار کو سوزن کی طرح تیز
کل اپنے مریدوں سے کہا پیر مغاں نے قیمت میں یہ معنی ہے در ناب سے دہ چند زہراب ہے اس قوم کے حق میں مئے افرنگ جس قوم کے بچے نہیں خوددار و ہنر مند
نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے جو بات مرد قلندر کی بارگاہ میں ہے صنم کدہ ہے جہاں اور مرد حق ہے خلیل یہ نکتہ وہ ہے کہ پوشیدہ لا الہ میں ہے وہی جہاں ہے ترا جس کو تو کرے پیدا یہ سنگ و خشت نہیں جو تری نگاہ میں ہے مہ و ستارہ سے آگے مقام ہے جس کا وہ مشت خاک ابھی آوارگان راہ میں ...
تو ابھی رہ گزر میں ہے قید مقام سے گزر مصر و حجاز سے گزر پارس و شام سے گزر جس کا عمل ہے بے غرض اس کی جزا کچھ اور ہے حور و خیام سے گزر بادہ و جام سے گزر گرچہ ہے دل کشا بہت حسن فرنگ کی بہار طائرک بلند بام دانہ و دام سے گزر کوہ شگاف تیری ضرب تجھ سے کشاد شرق و غرب تیغ ہلال کی طرح عیش نیام ...
خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا حیات ذوق سفر کے سوا کچھ اور نہیں گراں بہا ہے تو حفظ خودی سے ہے ورنہ گہر میں آب گہر کے سوا کچھ اور نہیں رگوں میں گردش خوں ہے اگر تو کیا حاصل حیات سوز جگر کے سوا کچھ اور نہیں عروس ...
سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا غلط تھا اے جنوں شاید ترا اندازۂ صحرا خودی سے اس طلسم رنگ و بو کو توڑ سکتے ہیں یہی توحید تھی جس کو نہ تو سمجھا نہ میں سمجھا نگہ پیدا کر اے غافل تجلی عین فطرت ہے کہ اپنی موج سے بیگانہ رہ سکتا نہیں دریا رقابت علم و عرفاں میں غلط بینی ہے منبر ...
مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا مروت حسن عالم گیر ہے مردان غازی کا شکایت ہے مجھے یا رب خداوندان مکتب سے سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاک بازی کا بہت مدت کے نخچیروں کا انداز نگہ بدلا کہ میں نے فاش کر ڈالا طریقہ شاہبازی کا قلندر جز دو حرف لا الٰہ کچھ بھی نہیں رکھتا فقیہ ...
ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب خانے میں فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مرد خلیق علاج ضعف یقیں ان سے ہو نہیں سکتا غریب اگرچہ ہیں رازیؔ کے نکتہ ہاے دقیق مرید سادہ تو رو رو کے ہو گیا تائب خدا کرے کہ ملے شیخ کو بھی یہ ...
خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریل اگر ہو عشق سے محکم تو صور اسرافیل عذاب دانش حاضر سے با خبر ہوں میں کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثل خلیل فریب خوردۂ منزل ہے کارواں ورنہ زیادہ راحت منزل سے ہے نشاط رحیل نظر نہیں تو مرے حلقۂ سخن میں نہ بیٹھ کہ نکتہ ہائے خودی ہیں مثال تیغ ...