قومی زبان

ہم جو مست شراب ہوتے ہیں

ہم جو مست شراب ہوتے ہیں ذرے سے آفتاب ہوتے ہیں ہے خرابات صحبت واعظ لوگ ناحق خراب ہوتے ہیں کیا کہیں کیسے روز و شب ہم سے عمل ناثواب ہوتے ہیں بادشہ ہیں گدا، گدا سلطان کچھ نئے انقلاب ہوتے ہیں ہم جو کرتے ہیں مے کدے میں دعا اہل مسجد کو خواب ہوتے ہیں وہی رہ جاتے ہیں زبانوں پر شعر جو ...

مزید پڑھیے

پوچھا نہ جائے گا جو وطن سے نکل گیا

پوچھا نہ جائے گا جو وطن سے نکل گیا بیکار ہے جو دانت دہن سے نکل گیا ٹھہریں کبھی کجوں میں نہ دم بھر بھی راست رو آیا کماں میں تیر تو سن سے نکل گیا خلعت پہن کے آنے کی تھی گھر میں آرزو یہ حوصلہ بھی گور و کفن سے نکل گیا پہلو میں میرے دل کو نہ اے درد کر تلاش مدت ہوئی غریب وطن سے نکل ...

مزید پڑھیے

میں رو کے آہ کروں گا جہاں رہے نہ رہے

میں رو کے آہ کروں گا جہاں رہے نہ رہے زمیں رہے نہ رہے آسماں رہے نہ رہے رہے وہ جان جہاں یہ جہاں رہے نہ رہے مکیں کی خیر ہو یا رب مکاں رہے نہ رہے ابھی مزار پر احباب فاتحہ پڑھ لیں پھر اس قدر بھی ہمارا نشاں رہے نہ رہے خدا کے واسطے کلمہ بتوں کا پڑھ زاہد پھر اختیار میں غافل زباں رہے نہ ...

مزید پڑھیے

نہ بے وفائی کا ڈر تھا نہ غم جدائی کا

نہ بے وفائی کا ڈر تھا نہ غم جدائی کا مزا میں کیا کہوں آغاز آشنائی کا کہاں نہیں ہے تماشا تری خدائی کا مگر جو دیکھنے دے رعب کبریائی کا وہ ناتواں ہوں اگر نبض کو ہوئی جنبش تو صاف جوڑ جدا ہو گیا کلائی کا شب وصال بہت کم ہے آسماں سے کہو کہ جوڑ دے کوئی ٹکڑا شب جدائی کا یہ جوش حسن سے تنگ ...

مزید پڑھیے

صاف کہتے ہو مگر کچھ نہیں کھلتا کہنا

صاف کہتے ہو مگر کچھ نہیں کھلتا کہنا بات کہنا بھی تمہارا ہے معما کہنا رو کے اس شوخ سے قاصد مرا رونا کہنا ہنس پڑے اس پہ تو پھر حرف تمنا کہنا مثل مکتوب نہ کہنے میں ہے کیا کیا کہنا نہ مری طرز خموشی نہ کسی کا کہنا اور تھوڑی سی شب وصل بڑھا دے یارب صبح نزدیک ہمیں ان سے ہے کیا کیا ...

مزید پڑھیے

شمشیر ہے سناں ہے کسے دوں کسے نہ دوں

شمشیر ہے سناں ہے کسے دوں کسے نہ دوں اک جان ناتواں ہے کسے دوں کسے نہ دوں مہمان ادھر ہما ہے ادھر ہے سگ حبیب اک مشت استخواں ہے کسے دوں کسے نہ دوں درباں ہزار اس کے یہاں ایک نقد جاں مال اس قدر کہاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں بلبل کو بھی ہے پھولوں کی گلچیں کو بھی طلب حیران باغباں ہے کسے دوں ...

مزید پڑھیے

دل کو طرز نگۂ یار جتاتے آئے

دل کو طرز نگۂ یار جتاتے آئے تیر بھی آئے تو بے پر کی اڑاتے آئے بادشاہوں کا ہے دربار در پیر مغاں سیکڑوں جاتے گئے سیکڑوں آتے آئے چھپ کے بھی آئے مرے گھر تو وو دربانوں کو اپنی پازیب کی جھنکار سناتے آئے روز محشر جو بلائے گئے دیوانۂ زلف بیڑیاں پہنے ہوئے شور مچاتے آئے کیا کہیں گے ...

مزید پڑھیے

ہیں نہ زندوں میں نہ مردوں میں کمر کے عاشق

ہیں نہ زندوں میں نہ مردوں میں کمر کے عاشق نہ ادھر کے ہیں الٰہی نہ ادھر کے عاشق ہے وہی آنکھ جو مشتاق ترے دید کی ہو کان وہ ہیں جو رہیں تیری خبر کے عاشق جتنے ناوک ہیں کماندار ترے ترکش میں کچھ مرے دل کے ہیں کچھ میرے جگر کے عاشق برہمن دیر سے کعبے سے پھر آئے حاجی تیرے در سے نہ سرکنا ...

مزید پڑھیے

وحشت

مجھے وحشت کا مطلب کب پتہ تھا آج سے پہلے کبھی ایسا ہوا یہ دل ذرا گھبرا گیا تو کہہ دیا کہ دل بہت وحشت زدہ ہے اور ایسا بھی ہوا گر سخت لہجے میں کسی نے بات کی یا بات رد کر دی نہ کوئی کام ہو یا نہ نیند آئی تو پھر بھی کہہ دیا وحشت بہت ہے مجھے یہ لفظ اچھا ہی بہت لگتا تھا پر ایسے نہیں دیکھو کہ ...

مزید پڑھیے

جہاں میں کھڑی تھی

جہاں میں کھڑی تھی وہاں سے قدم، دو قدم ہی کا رستہ تھا جس جا پہ موسم بدلنے کو تیار بیٹھے تھے میرے یہ بس میں نہیں تھا کہ میں اپنی کھڑکی کے آگے پگھلتے ہوئے منظروں میں کوئی اپنی مرضی کا ہی رنگ بھر دوں خزاں کی اکڑتی ہوئی زرد بانہوں کو اپنے جھروکے کے آگے یہ بد رنگ پیلے مناظر سجانے سے ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5244 سے 6203