ہم جو مست شراب ہوتے ہیں
ہم جو مست شراب ہوتے ہیں ذرے سے آفتاب ہوتے ہیں ہے خرابات صحبت واعظ لوگ ناحق خراب ہوتے ہیں کیا کہیں کیسے روز و شب ہم سے عمل ناثواب ہوتے ہیں بادشہ ہیں گدا، گدا سلطان کچھ نئے انقلاب ہوتے ہیں ہم جو کرتے ہیں مے کدے میں دعا اہل مسجد کو خواب ہوتے ہیں وہی رہ جاتے ہیں زبانوں پر شعر جو ...