قومی زبان

تحیر ہے بلا کا یہ پریشانی نہیں جاتی

تحیر ہے بلا کا یہ پریشانی نہیں جاتی کہ تن ڈھکنے پہ بھی جسموں کی عریانی نہیں جاتی یہاں عہد حکومت عجز کا کس طور آئے گا کہ تاج و تخت کی فطرت سے سلطانی نہیں جاتی بجھے سورج پہ بھی آنگن مرا روشن ہی رہتا ہے دہکتے ہوں اگر جذبے تو تابانی نہیں جاتی مقدر کر لے اپنی سی ہم اپنی کر گزرتے ...

مزید پڑھیے

چاند ہم دونوں سے مشابہ ہے

گزشتہ رات پورے چاند کی شب تھی پس دہلیز تم تھیں اور میں نا خواستہ قدموں سے باہر کی طرف جاتے ہوئے آنکھوں ہی آنکھوں میں تمہیں خود میں سموتا جا رہا تھا بھلا کب تک یہ منظر ساتھ دیتا! 'خدا حافظ' کے لمحے بعد دروازہ مقفل ہو چکا تھا اور آنکھوں کی رسائی سے تمہارا جگمگاتا حسن اوجھل ہو چکا ...

مزید پڑھیے

تمہاری پوروں کا لمس اب تک.....

میں زندگی کی کڑی مسافت تمہاری چاہت ملے بنا بھی مجھے یقیں ہے کہ کاٹ لوں گا میں ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جنہوں نے اپنی تمام عمریں سراب سایوں کی جستجو میں یہی سمجھ کر گزار دی ہیں کہ چاہتوں کے یہ خواب لمحے یہ فرقتوں کے عذاب لمحے کبھی بنیں گے گلاب لمحے یہ لوگ وہ ہیں کہ جن کے یادوں کے ...

مزید پڑھیے

یہی تم پر بھی کھلنا ہے

اچانک آج مجھ کو راستے میں مل گیا تھا وہ تمہارا نام لیتا تھا مجھے کہنے لگا، انجم خدا لگتی کہو، تم نے بھی اس مہ رو کو دیکھا ہے تمہاری آنکھ بھی تو حسن کا ادراک رکھتی ہے تمہیں بھی آشنائی ہے کہ خد و خال کن کن زاویوں سے حسن کی تشکیل کرتے ہیں تو کیا جو حال ہے میرا بھلا کچھ اور ہوتا ...

مزید پڑھیے

اعتراف

ہر شاخ تمنا پر میری ہر چند کہ برگ و بار لگے وہ پیڑ جو میرے نام کا ہے، ہر آنکھ کو سایہ دار لگے پر، ایک کمی سی رہتی ہے کچھ وقف تبسم ہونٹ بھی ہیں، کچھ رستہ تکتی آنکھیں بھی کچھ وہ ہیں جن سے ملنے کو بے تاب ہوں میری بانہیں بھی پر، ایک خلش سی رہتی ہے یہ داد و ستائش کے تمغے، کچھ شعروں پر، ...

مزید پڑھیے

وہ لمحہ

تمام زندگی پر وہ ایک لمحہ بھاری ہے جس لمحے تیری نگاہ مجھ پہ طاری ہے بس میں ہوتا تو روک لیتے اس لمحے کو آج تک چھائی ہم پر وہ خماری ہے جنت بھی مل گئی تو کہہ دیں گے یہ خدا سے ہم اس لمحے کو دہرا دے پھر جہنم کی گلیاں بھی ہمیں پیاری ہیں ہاں خود غرض ہیں تو اتنا شور کیوں مچاتے ہو زندگی ...

مزید پڑھیے

حیات رائیگاں ہے اور میں ہوں

حیات رائیگاں ہے اور میں ہوں یہ وقت امتحاں ہے اور میں ہوں مری تنہائی کا عالم نہ پوچھو خیال دوستاں ہے اور میں ہوں لبوں پر مہر خاموشی ہے لیکن نگاہوں کی زباں ہے اور میں ہوں مری تقدیر مجھ سے بد گماں ہے نصیب دشمناں ہے اور میں ہوں جگر میں سوز ہے اور دل میں میرے مرا درد نہاں ہے اور میں ...

مزید پڑھیے

دماغ ان کے تجسس میں جسم گھر میں رہا

دماغ ان کے تجسس میں جسم گھر میں رہا میں اپنے گھر ہی میں رہتے ہوئے سفر میں رہا وہ خاک چھاننے والوں کا درد کیا جانے تمام عمر جو محفوظ اپنے گھر میں رہا میں ہمکنار کبھی ہو سکا نہ منزل سے ہمیشہ حلقۂ اخلاق راہبر میں رہا میں جس کے واسطے بھٹکا کیا زمانے میں وہ اشک بن کے سدا میری چشم تر ...

مزید پڑھیے

غم سہیں یا خوشی کو پیار کریں

غم سہیں یا خوشی کو پیار کریں کون سی چیز اختیار کریں ہم بہ قید قفس چمن سے دور کیسے اندازۂ بہار کریں فصل گل آ گئی ہے اہل جنوں پھر گریباں کو تار تار کریں کالی کالی گھٹا میں چھائی ہیں آئیے ذکر زلف یار کریں دل دیا ہے تو ان کے قدموں پر زندگانی کو بھی نثار کریں جس میں شامل ہوں سب ...

مزید پڑھیے

باوفا ہوں مری خطا ہے یہ

باوفا ہوں مری خطا ہے یہ جی رہا ہوں مری سزا ہے یہ اک تبسم ہزارہا آنسو ابتدا وہ تھی انتہا ہے یہ غم بہت محترم ہے میرے لئے کیوں نہ ہو آپ کی عطا ہے یہ ہجر کی لذتوں کا کیا کہنا وہ نہ آئیں مری دعا ہے یہ دل مرا توڑ دیجئے لیکن سوچئے کس کا آئنہ ہے یہ

مزید پڑھیے
صفحہ 5154 سے 6203