دیکھ دل کو مرے او کافر بے پیر نہ توڑ
دیکھ دل کو مرے او کافر بے پیر نہ توڑ گھر ہے اللہ کا یہ اس کی تو تعمیر نہ توڑ غل سدا وادئ وحشت میں رکھوں گا برپا اے جنوں دیکھ مرے پاؤں کی زنجیر نہ توڑ دیکھ ٹک غور سے آئینۂ دل کو میرے اس میں آتا ہے نظر عالم تصویر نہ توڑ تاج زر کے لیے کیوں شمع کا سر کاٹے ہے رشتۂ الفت پروانہ کو گل گیر ...