قومی زبان

دیکھ دل کو مرے او کافر بے پیر نہ توڑ

دیکھ دل کو مرے او کافر بے پیر نہ توڑ گھر ہے اللہ کا یہ اس کی تو تعمیر نہ توڑ غل سدا وادئ وحشت میں رکھوں گا برپا اے جنوں دیکھ مرے پاؤں کی زنجیر نہ توڑ دیکھ ٹک غور سے آئینۂ دل کو میرے اس میں آتا ہے نظر عالم تصویر نہ توڑ تاج زر کے لیے کیوں شمع کا سر کاٹے ہے رشتۂ الفت پروانہ کو گل گیر ...

مزید پڑھیے

بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں

بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں سنے ہے کون مصیبت کہوں تو کس سے کہوں جو تو ہو صاف تو کچھ میں بھی صاف تجھ سے کہوں ترے ہے دل میں کدورت کہوں تو کس سے کہوں نہ کوہ کن ہے نہ مجنوں کہ تھے مرے ہمدرد میں اپنا درد محبت کہوں تو کس سے کہوں دل اس کو آپ دیا آپ ہی پشیماں ہوں کہ سچ ہے اپنی ...

مزید پڑھیے

کیا کچھ نہ کیا اور ہیں کیا کچھ نہیں کرتے

کیا کچھ نہ کیا اور ہیں کیا کچھ نہیں کرتے کچھ کرتے ہیں ایسا بخدا کچھ نہیں کرتے اپنے مرض غم کا حکیم اور کوئی ہے ہم اور طبیبوں کی دوا کچھ نہیں کرتے معلوم نہیں ہم سے حجاب ان کو ہے کیسا اوروں سے تو وہ شرم و حیا کچھ نہیں کرتے گو کرتے ہیں ظاہر کو صفا اہل کدورت پر دل کو نہیں کرتے صفا کچھ ...

مزید پڑھیے

قاروں اٹھا کے سر پہ سنا گنج لے چلا

قاروں اٹھا کے سر پہ سنا گنج لے چلا دنیا سے کیا بخیل بجز رنج لے چلا منت تھی بوسۂ لب شیریں کہ دل مرا مجھ کو سوئے مزار شکر گنج لے چلا ساقی سنبھالتا ہے تو جلدی مجھے سنبھال ورنہ اڑا کے پاں نشۂ بنج لے چلا دوڑا کے ہاتھ چھاتی پہ ہم ان کی یوں پھرے جیسے کوئی چور آ کے ہو نارنج لے چلا چوسر ...

مزید پڑھیے

نباہ بات کا اس حیلہ گر سے کچھ نہ ہوا

نباہ بات کا اس حیلہ گر سے کچھ نہ ہوا ادھر سے کیا نہ ہوا پر ادھر سے کچھ نہ ہوا جواب صاف تو لاتا اگر نہ لاتا خط لکھا نصیب کا جو نامہ بر سے کچھ نہ ہوا ہمیشہ فتنے ہی برپا کیے مرے سر پر ہوا یہ اور تو اس فتنہ گر سے کچھ نہ ہوا بلا سے گریۂ شب تو ہی کچھ اثر کرتا اگرچہ عشق میں آہ سحر سے کچھ نہ ...

مزید پڑھیے

ٹکڑے نہیں ہیں آنسوؤں میں دل کے چار پانچ

ٹکڑے نہیں ہیں آنسوؤں میں دل کے چار پانچ سرخاب بیٹھے پانی میں ہیں مل کے چار پانچ منہ کھولے ہیں یہ زخم جو بسمل کے چار پانچ پھر لیں گے بوسے خنجر قاتل کے چار پانچ کہنے ہیں مطلب ان سے ہمیں دل کے چار پانچ کیا کہیے ایک منہ ہیں وہاں مل کے چار پانچ دریا میں گر پڑا جو مرا اشک ایک گرم بت ...

مزید پڑھیے

یا مجھے افسر شاہانہ بنایا ہوتا

یا مجھے افسر شاہانہ بنایا ہوتا یا مرا تاج گدایانہ بنایا ہوتا اپنا دیوانہ بنایا مجھے ہوتا تو نے کیوں خرد مند بنایا نہ بنایا ہوتا خاکساری کے لیے گرچہ بنایا تھا مجھے کاش خاک در جانانہ بنایا ہوتا نشۂ عشق کا گر ظرف دیا تھا مجھ کو عمر کا تنگ نہ پیمانہ بنایا ہوتا دل صد چاک بنایا تو ...

مزید پڑھیے

ہوتے ہوتے چشم سے آج اشک باری رہ گئی

ہوتے ہوتے چشم سے آج اشک باری رہ گئی آبرو بارے تری ابر بہاری رہ گئی آتے آتے اس طرف ان کی سواری رہ گئی دل کی دل میں آرزوئے جاں نثاری رہ گئی ہم کو خطرہ تھا کہ لوگوں میں تھا چرچا اور کچھ بات خط آنے سے تیرے پر ہماری رہ گئی ٹکڑے ٹکڑے ہو کے اڑ جائے گا سب سنگ مزار دل میں بعد از مرگ کچھ گر ...

مزید پڑھیے

محبت چاہیے باہم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو

محبت چاہیے باہم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو خوشی ہو اس میں یا ہو غم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو غنیمت تم اسے سمجھو کہ اس خم خانہ میں یارو نصیب اک دم دل خرم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو دلاؤ حضرت دل تم نہ یاد خط سبز اس کا کہیں ایسا نہ ہو یہ سم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو ہمیشہ چاہتا ہے دل کہ مل ...

مزید پڑھیے

کیونکہ ہم دنیا میں آئے کچھ سبب کھلتا نہیں

کیونکہ ہم دنیا میں آئے کچھ سبب کھلتا نہیں اک سبب کیا بھید واں کا سب کا سب کھلتا نہیں پوچھتا ہے حال بھی گر وہ تو مارے شرم کے غنچۂ تصویر کے مانند لب کھلتا نہیں شاہد مقصود تک پہنچیں گے کیونکر دیکھیے بند ہے باب تمنا ہے غضب کھلتا نہیں بند ہے جس خانۂ زنداں میں دیوانہ تیرا اس کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4705 سے 6203