قومی زبان

اے سجن وقت جاں گدازی ہے

اے سجن وقت جاں گدازی ہے موسم‌ عیش و فصل بازی ہے ان چکوروں سے دور رہ اے چاند قول عشاق کا نمازی ہے اس قلندر کی بات سہل نہ بوجھ عشق کے فن میں فخر رازی ہے ہم قریں مجھ نہ کر رقیباں سوں طور یاروں کی پاک بازی ہے عاشقاں جان و دل گنواتے ہیں یہ نہ طور زمانہ سازی ہے فائزؔ اس خوش ادا سریجن ...

مزید پڑھیے

یار میرا میان گلشن ہے

یار میرا میان گلشن ہے غرق خوں پھول تا بہ دامن ہے دل لبھاتا ہے سب کا وہ ساجن دل فریبی میں اس کو کیا فن ہے تارے جیوں در ہے جس کے حلقہ بگوش وو بنا گوش صبح روشن ہے اس نظارے سے سب شہید ہوئے وو نین کیا بلائے رہ زن ہے کیا بیاں کر سکوں میں گت اس کی فائزؔ ات خوش ادا سریجن ہے

مزید پڑھیے

ایک پل جا نہ کہوں نین سوں اے نور بصر

ایک پل جا نہ کہوں نین سوں اے نور بصر ٹک نہ ہو اس دل تاریک سوں اے بدر بدر تیری اس صبح بنا گوش و خط مشکیں سوں سیر کرتا ہوں عجب شام و سحر شام و سحر جل کے میں سرمہ ہوا بلکہ ہوا کاجل بھی خانۂ چشم میں تجھ پاؤں جو ٹک راہ مگر راہ داراں لیویں ہر گام میں جیو کا حاصل ہے گا اس راہ میں اے عمر ...

مزید پڑھیے

لفظ کا بس ہے تعلق میرے تیرے درمیاں

لفظ کا بس ہے تعلق میرے تیرے درمیاں لفظ کے معنی پہ قائم سارے رشتوں کا نشاں پہلے چپ کی گفتگو اس کی سمجھ میں آتی تھی بھول بیٹھی ہے کہی اور ان کہی دونوں زباں لفظ خود ہم نے گڑھے اظہار الفت کے لیے وصل کی تکمیل ہے ممنون تشکیل لساں ہو نہ گر الفت تو نفرت ہو ضروری تو نہیں یہ بھی ہو سکتا ہے ...

مزید پڑھیے

اچھا ہے تو نے ان دنوں دیکھا نہیں مجھے

اچھا ہے تو نے ان دنوں دیکھا نہیں مجھے دنیا نے تیرے کام کا چھوڑا نہیں مجھے ہاں ٹھیک ہے میں بھولا ہوا ہوں جہان کو لیکن خیال اپنا بھی ہوتا نہیں مجھے اب اپنے آنسوؤں پہ ہے سیرابئ حیات کچھ اور اس فلک پہ بھروسا نہیں مجھے ہے مہرباں کوئی جو کئے جا رہا ہے کام ورنہ معاش کا تو سلیقہ نہیں ...

مزید پڑھیے

جانتا ہوں کہ کئی لوگ ہیں بہتر مجھ سے

جانتا ہوں کہ کئی لوگ ہیں بہتر مجھ سے پھر بھی خواہش ہے کہ دیکھو کبھی مل کر مجھ سے سوچتا کیا ہوں ترے بارے میں چلتے چلتے تو ذرا پوچھنا یہ بات ٹھہر کر مجھ سے میں یہی سوچ کے ہر حال میں خوش رہتا ہوں روٹھ جائے نہ کہیں میرا مقدر مجھ سے مجھ پہ مت چھوڑ کہ پھر بعد میں پچھتائے گا فیصلے ٹھیک ...

مزید پڑھیے

کوئی نام ہے نہ کوئی نشاں مجھے کیا ہوا

کوئی نام ہے نہ کوئی نشاں مجھے کیا ہوا میں بکھر گیا ہوں کہاں کہاں مجھے کیا ہوا کسے ڈھونڈتا ہوں میں اپنے قرب و جوار میں اے فراق صحبت دوستاں مجھے کیا ہوا یہ کہاں پڑا ہوں زمیں کے گرد و غبار میں وہ کہاں گیا مرا آسماں مجھے کیا ہوا کوئی رات تھی کوئی چاند تھا کئی لوگ تھے وہ عجب سماں تھا ...

مزید پڑھیے

جو دل کو پہلے میسر تھا کیا ہوا اس کا

جو دل کو پہلے میسر تھا کیا ہوا اس کا جو اس سکون سے بہتر تھا کیا ہوا اس کا کہاں لیے چلی جاتی ہے مجھ کو ویرانی یہیں کہیں پہ مرا گھر تھا کیا ہوا اس کا کچھ ایسے اشک پئے ہیں کہ اب خبر ہی نہیں اس آنکھ میں جو سمندر تھا کیا ہوا اس کا نظر گئی سو گئی پر کوئی بتائے مجھے بڑے کمال کا منظر تھا ...

مزید پڑھیے

رات گہری ہے مگر ایک سہارا ہے مجھے

رات گہری ہے مگر ایک سہارا ہے مجھے یہ مری آنکھ کا آنسو ہی ستارا ہے مجھے میں کسی دھیان میں بیٹھا ہوں مجھے کیا معلوم ایک آہٹ نے کئی بار پکارا ہے مجھے آنکھ سے گرد ہٹاتا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں اپنے بکھرے ہوئے ملبے کا نظارا ہے مجھے اے مرے لاڈلے اے ناز کے پالے ہوئے دل تو نے کس کوئے ...

مزید پڑھیے

اس لیے دل برا کیا ہی نہیں

اس لیے دل برا کیا ہی نہیں زندگی میرا فیصلہ ہی نہیں اس قدر شور تھا مرے سر میں اپنی آواز پر رکا ہی نہیں بڑی خواہش تھی مجھ کو ہونے کی ہو گیا ہوں تو کچھ ہوا ہی نہیں ظلم کرتا ہوں ظلم سہتا ہوں میں کبھی چین سے رہا ہی نہیں پڑ گیا ہے خدا سے کام مجھے اور خدا کا کوئی پتہ ہی نہیں توڑ ڈالو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4370 سے 6203