قومی زبان

پھر حریف بہار ہو بیٹھے

پھر حریف بہار ہو بیٹھے جانے کس کس کو آج رو بیٹھے تھی مگر اتنی رائیگاں بھی نہ تھی آج کچھ زندگی سے کھو بیٹھے تیرے در تک پہنچ کے لوٹ آئے عشق کی آبرو ڈبو بیٹھے ساری دنیا سے دور ہو جائے جو ذرا تیرے پاس ہو بیٹھے نہ گئی تیری بے رخی نہ گئی ہم تری آرزو بھی کھو بیٹھے فیضؔ ہوتا رہے جو ...

مزید پڑھیے

گو سب کو بہم ساغر و بادہ تو نہیں تھا

گو سب کو بہم ساغر و بادہ تو نہیں تھا یہ شہر اداس اتنا زیادہ تو نہیں تھا گلیوں میں پھرا کرتے تھے دو چار دوانے ہر شخص کا صد چاک لبادہ تو نہیں تھا منزل کو نہ پہچانے رہ عشق کا راہی ناداں ہی سہی ایسا بھی سادہ تو نہیں تھا تھک کر یوں ہی پل بھر کے لیے آنکھ لگی تھی سو کر ہی نہ اٹھیں یہ ...

مزید پڑھیے

سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں

سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں ہم لوگ سرخ رو ہیں کہ منزل سے آئے ہیں شمع نظر خیال کے انجم جگر کے داغ جتنے چراغ ہیں تری محفل سے آئے ہیں اٹھ کر تو آ گئے ہیں تری بزم سے مگر کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں ہر اک قدم اجل تھا ہر اک گام زندگی ہم گھوم پھر کے کوچۂ قاتل سے آئے ...

مزید پڑھیے

شیخ صاحب سے رسم و راہ نہ کی

شیخ صاحب سے رسم و راہ نہ کی شکر ہے زندگی تباہ نہ کی تجھ کو دیکھا تو سیر چشم ہوئے تجھ کو چاہا تو اور چاہ نہ کی تیرے دست ستم کا عجز نہیں دل ہی کافر تھا جس نے آہ نہ کی تھے شب ہجر کام اور بہت ہم نے فکر دل تباہ نہ کی کون قاتل بچا ہے شہر میں فیضؔ جس سے یاروں نے رسم و راہ نہ کی

مزید پڑھیے

اب کے برس دستور ستم میں کیا کیا باب ایزاد ہوئے

اب کے برس دستور ستم میں کیا کیا باب ایزاد ہوئے جو قاتل تھے مقتول ہوئے جو صید تھے اب صیاد ہوئے پہلے بھی خزاں میں باغ اجڑے پر یوں نہیں جیسے اب کے برس سارے بوٹے پتہ پتہ روش روش برباد ہوئے پہلے بھی طواف شمع وفا تھی رسم محبت والوں کی ہم تم سے پہلے بھی یہاں منصورؔ ہوئے فرہادؔ ہوئے اک ...

مزید پڑھیے

شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئی

شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئی دل تھا کہ پھر بہل گیا جاں تھی کہ پھر سنبھل گئی بزم خیال میں ترے حسن کی شمع جل گئی درد کا چاند بجھ گیا ہجر کی رات ڈھل گئی جب تجھے یاد کر لیا صبح مہک مہک اٹھی جب ترا غم جگا لیا رات مچل مچل گئی دل سے تو ہر معاملہ کر کے چلے تھے صاف ہم کہنے میں ان ...

مزید پڑھیے

کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگی

کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگی سنتے تھے وہ آئیں گے سنتے تھے سحر ہوگی کب جان لہو ہوگی کب اشک گہر ہوگا کس دن تری شنوائی اے دیدۂ تر ہوگی کب مہکے گی فصل گل کب بہکے گا مے خانہ کب صبح سخن ہوگی کب شام نظر ہوگی واعظ ہے نہ زاہد ہے ناصح ہے نہ قاتل ہے اب شہر میں یاروں کی کس طرح بسر ...

مزید پڑھیے

کب تک دل کی خیر منائیں کب تک رہ دکھلاؤ گے

کب تک دل کی خیر منائیں کب تک رہ دکھلاؤ گے کب تک چین کی مہلت دو گے کب تک یاد نہ آؤ گے بیتا دید امید کا موسم خاک اڑتی ہے آنکھوں میں کب بھیجو گے درد کا بادل کب برکھا برساؤ گے عہد وفا یا ترک محبت جو چاہو سو آپ کرو اپنے بس کی بات ہی کیا ہے ہم سے کیا منواؤ گے کس نے وصل کا سورج دیکھا کس پر ...

مزید پڑھیے

اب وہی حرف جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے

اب وہی حرف جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے جو بھی چل نکلی ہے وہ بات کہاں ٹھہری ہے آج تک شیخ کے اکرام میں جو شے تھی حرام اب وہی دشمن دیں راحت جاں ٹھہری ہے ہے خبر گرم کہ پھرتا ہے گریزاں ناصح گفتگو آج سر کوئے بتاں ٹھہری ہے ہے وہی عارض لیلیٰ وہی شیریں کا دہن نگہ شوق گھڑی بھر کو جہاں ٹھہری ...

مزید پڑھیے

گرمئ شوق نظارہ کا اثر تو دیکھو

گرمئ شوق نظارہ کا اثر تو دیکھو گل کھلے جاتے ہیں وہ سایۂ تر تو دیکھو ایسے ناداں بھی نہ تھے جاں سے گزرنے والے ناصحو پند گرو راہ گزر تو دیکھو وہ تو وہ ہے تمہیں ہو جائے گی الفت مجھ سے اک نظر تم مرے محبوب نظر تو دیکھو وہ جو اب چاک گریباں بھی نہیں کرتے ہیں دیکھنے والو کبھی ان کا جگر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4336 سے 6203