کسی کے ایک اشارے میں کس کو کیا نہ ملا
کسی کے ایک اشارے میں کس کو کیا نہ ملا بشر کو زیست ملی موت کو بہانہ ملا مذاق تلخ پسندی نہ پوچھ اس دل کا بغیر مرگ جسے زیست کا مزا نہ ملا دبی زباں سے مرا حال چارہ ساز نہ کہہ بس اب تو زہر ہی دے زہر میں دوا نہ ملا خدا کی دین نہیں ظرف خلق پر موقوف یہ دل بھی کیا ہے جسے درد کا خزانہ ...