تو اپنے ہونے کا ہر اک نشاں سنبھال کے مل
تو اپنے ہونے کا ہر اک نشاں سنبھال کے مل یقیں سنبھال کے مل اور گماں سنبھال کے مل ہم اپنے بارے کبھی مشتعل نہیں ہوتے فقیر لوگ ہیں ہم سے زباں سنبھال کے مل وجود واہمہ ویرانیوں میں گھومتا ہے یہ بے کراں ہے تو پھر بے کراں سنبھال کے مل یہ مرحلے ہیں عجب اس لیے سمندر سے ہوا کو تھام کے مل ...