تمنا اپنی ان پر آشکارا کر رہا ہوں میں
تمنا اپنی ان پر آشکارا کر رہا ہوں میں جو پہلے کر چکا ہوں اب دوبارا کر رہا ہوں میں شکست آرزو عرض تمنا شوق لا حاصل تری خاطر تو یہ سب کچھ گوارا کر رہا ہوں میں قفس میں جی بہلنے کے لیے وہ پھول رکھ آئے ہجوم یاس میں جن پر گزارا کر رہا ہوں میں غرض اس چیز سے مجھ کو نہیں میری نہ جو ہوگی یہ ...