نئے مزاج کی تشکیل کرنا چاہتے ہیں
نئے مزاج کی تشکیل کرنا چاہتے ہیں ہم اپنے آپ کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں قبول ترک تعلق نہیں ہے لیکن ہم تمہارے حکم کی تعمیل کرنا چاہتے ہیں غموں کے فیل نہ ڈھا دیں کہیں یہ کعبۂ دل سو ہم دعائے ابابیل کرنا چاہتے ہیں ہمارے جلنے سے ملتی ہے روشنی تم کو تو روشن اب یہی قندیل کرنا چاہتے ...