میں نہیں ہوں مگر
میں نہیں ہوں مگر اب بھی کھلتے ہیں کھڑکی کے دائیں طرف پھول بل کھائی الجھی ہوئی بیل پر زندگی کے کسی فیصلے کی گھڑی سے الجھتے ہوئے میں کھرچتا رہا تھا یہ روغن جمی ہے یہاں آج تک ننھے دھبے میں اک بے کلی میرے احساس کی اور قالین پر میری پیالی سے چھلکی ہوئی چائے کا اک پرانا نشاں اب بھی تکتا ...