قومی زبان

کسی بھی لفظ کا جادو اثر نہیں کرتا

کسی بھی لفظ کا جادو اثر نہیں کرتا وہ اپنے دل کی مجھے بھی خبر نہیں کرتا بنا ہوا ہے بظاہر وہ بے تعلق بھی جو مجھ کو سوچے بنا دن بسر نہیں کرتا ٹھہرنے بھی نہیں دیتا ہے اپنے دل میں مجھے محبتیں بھی مری دل بدر نہیں کرتا لبوں میں جس کے محبت کا اسم اعظم ہے نہ جانے پیار کو وہ کیوں امر نہیں ...

مزید پڑھیے

جو بس میں ہے وہ کر جانا ضروری ہو گیا ہے

جو بس میں ہے وہ کر جانا ضروری ہو گیا ہے تری چاہت میں مر جانا ضروری ہو گیا ہے ہمیں تو اب کسی اگلی محبت کے سفر پر نہیں جانا تھا پر جانا ضروری ہو گیا ہے ستارا جب مرا گردش سے باہر آ رہا ہے تو پھر دل کا ٹھہر جانا ضروری ہو گیا ہے درختوں پر پرندے لوٹ آنا چاہتے ہیں خزاں رت کا گزر جانا ...

مزید پڑھیے

تمہارے عشق میں کس کس طرح خراب ہوئے

تمہارے عشق میں کس کس طرح خراب ہوئے رہا نہ عالم ہجراں نہ وصل یاب ہوئے بس اتنی بات تھی دو دن کبھی نہ مل پائیں کہیں پہ تپتے ہوئے تھل کہیں چناب ہوئے عجب سزا ہے کہ میرے دعاؤں والے حروف نہ مسترد ہوئے اب تک نہ مستجاب ہوئے ذہانتیں تھیں تری یا اناڑی پن اپنا سوال وصل سے پہلے ہی لا جواب ...

مزید پڑھیے

خموش آنکھوں سے کرتا رہا سوال مجھے

خموش آنکھوں سے کرتا رہا سوال مجھے وہ آ کے کہہ نہ سکا اپنے دل کا حال مجھے کبھی تو خود کو بھی پہچاننے کی کوشش کر حصار ذات سے آ کر کبھی نکال مجھے یہ بے یقینی کا گہرا سکوت تو ٹوٹے فریب دے کوئی خوش فہمیوں میں ڈال مجھے وہ نام لکھوں تو لفظوں سے خوشبوئیں اٹھیں وہ دے گیا جو مہکتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

اب کے اس نے کمال کر ڈالا

اب کے اس نے کمال کر ڈالا اک خوشی سے نڈھال کر ڈالا چاند بن کر چمکنے والے نے مجھ کو سورج مثال کر ڈالا پہلے غم سے نہال کرتا تھا اب خوشی سے نہال کر ڈالا اک حقیقت کے روپ میں آ کر مجھ کو خواب و خیال کر ڈالا دکھ بھرے دل سے دکھ ہی چھین لیے اور جینا وبال کر ڈالا ایک خوش خط سے شخص نے ...

مزید پڑھیے

اندر کی دنیائیں ملا کے ایک نگر ہو جائیں

اندر کی دنیائیں ملا کے ایک نگر ہو جائیں یا پھر آؤ مل کر ٹوٹیں اور کھنڈر ہو جائیں ایک نام پڑھیں یوں دونوں اور دعا یوں مانگیں یا سجدے سے سر نہ اٹھیں یا لفظ اثر ہو جائیں خیر اور شر کی آمیزش اور آویزش سے نکھریں بھول اور توبہ کرتے سارے سانس بسر ہو جائیں ہم ازلی آوارہ جن کا گھر ہی ...

مزید پڑھیے

اک خواب کہ جو آنکھ بھگونے کے لیے ہے

اک خواب کہ جو آنکھ بھگونے کے لیے ہے اک یاد کہ سینے میں چبھونے کے لیے ہے اک زخم کہ سب زخم بھلا ڈالے ہیں جس نے اک غم کہ جو تا عمر بھلانے کے لیے ہے اک روح کہ سونا ہے مگر میل بھری بھی اک آگ اسی میل کو دھونے کے لیے ہے آنکھوں میں ابھی دھول سی لمحوں کی جمی ہے دل میں کوئی سیلاب سا رونے کے ...

مزید پڑھیے

فصل غم کی جب نوخیزی ہو جاتی ہے

فصل غم کی جب نوخیزی ہو جاتی ہے درد کی موجوں میں بھی تیزی ہو جاتی ہے پانی میں بھی چاند ستارے اگ آتے ہیں آنکھ سے دل تک وہ زرخیزی ہو جاتی ہے اندر کے جنگل سے آ جاتی ہیں یادیں اور فضا میں صندل بیزی ہو جاتی ہے خوشیاں غم میں بالکل گھل مل سی جاتی ہیں اور نشاط میں غم انگیزی ہو جاتی ...

مزید پڑھیے

آپ لوگوں کے کہے پر ہی اکھڑ جاتے ہیں

آپ لوگوں کے کہے پر ہی اکھڑ جاتے ہیں لوگ تو جھوٹ بھی سو طرح کے گھڑ جاتے ہیں آنکھ کس طرح کھلے میری کہ میں جانتا ہوں آنکھ کھلتے ہی سبھی خواب اجڑ جاتے ہیں غم تمہارا نہیں جاناں ہمیں دکھ اپنا ہے تم بچھڑتے ہو تو ہم خود سے بچھڑ جاتے ہیں لوگ کہتے ہیں کہ تقدیر اٹل ہوتی ہے ہم نے دیکھا ہے ...

مزید پڑھیے

دلوں میں دشمنوں کے اس طرح ڈر بول اٹھتے ہیں

دلوں میں دشمنوں کے اس طرح ڈر بول اٹھتے ہیں گواہی کو چھپاتے ہیں تو منظر بول اٹھتے ہیں مری سچائی میری بے گناہی سب پہ ظاہر ہے کہ اب جنگل کنویں صحرا سمندر بول اٹھتے ہیں وہ پتھر دل سہی لیکن ہمارا بھی یہ دعویٰ ہے ہمارے لب جنہیں چھو لیں وہ پتھر بول اٹھتے ہیں بدل جاتے ہیں اک لمحے میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4022 سے 6203