قومی زبان

دریا کا چڑھاؤ باندھ لینا

دریا کا چڑھاؤ باندھ لینا سیلاب میں ناؤ باندھ لینا شہروں کے غبار اڑ رہے ہیں صحرا کی ہواؤ باندھ لینا بارش میں پھرا ہوں شب ہوئی ہے زلفوں کی گھٹاؤ باندھ لینا زخموں کی نمائشیں نہیں خوب یہ زیست کے گھاؤ باندھ لینا آمادۂ سرکشی ہیں جذبات میرے قریب آؤ باندھ لینا عالم کی رگیں سی ...

مزید پڑھیے

ہرے موسم کھلیں گے سونا بن کے خاک بدلے گی

ہرے موسم کھلیں گے سونا بن کے خاک بدلے گی کہاں تک یہ زمیں آخر نئی پوشاک بدلے گی حسیں معصوم ہونٹوں پر محبت کے سبق تازہ کبھی تو آدمی کی فطرت چالاک بدلے گی رواں ہے آب و خوں سر پتھروں کو پھوڑنے دیجے ندی سیلاب کی رو میں خس و خاشاک بدلے گی سلیقہ زندگی کی وحشتوں کو ملنے والا ہے قبا اس ...

مزید پڑھیے

مہکی شب آئینہ دیکھے اپنے بستر سے باہر

مہکی شب آئینہ دیکھے اپنے بستر سے باہر خواب کا عالم ریزہ ریزہ چشم منظر سے باہر حشر صدا ہے پروازوں میں روئی کے گالے اونچے پہاڑ آسماں اک شیشے کا ٹکڑا وقت کے شہ پر سے باہر خون اگلتا جسم شفق سی پھولی آنکھوں آنکھوں میں قوس قزح کے نازک بازو دست خنجر سے باہر ذہن‌ و نظر میں اندر اندر ...

مزید پڑھیے

ابھرتا چاند سیہ رات کے پروں میں تھا

ابھرتا چاند سیہ رات کے پروں میں تھا کوئی تو چہرہ مرے درد کے گھروں میں تھا وہ عکس جسم جو خوابوں میں ہو گیا تحلیل کبھی ان آنکھوں کے سمٹے ہوئے دروں میں تھا خنک ہواؤں کے زانوں پہ سوچے ہیں وہ تری وفاؤں کا کچھ درد جن سروں میں تھا گزشتہ رات کی آندھی بھی آ کے دیکھ گئی اٹل سکوت غموں کے ...

مزید پڑھیے

سیاسی بینگن

مسلم سے تنفر اور کفار سے یارانہ آخر یہ قلا بازی کیوں کھا گئے مولانا لکشمی کی محبت نے دل موہ لیا اتنا منہ موڑ کے کعبے سے پہنچے سوئے بت خانہ اسلام تعجب سے انگشت بدنداں ہے مرگھٹ میں جلے شمع توحید کا پروانہ تھالی میں سیاست کی بینگن کی طرح لنڈھکے اور اس کو سمجھتے ہیں اک چال ...

مزید پڑھیے

جب دوبارہ کسی عاشق کا جنم ہوتا ہے

جب دوبارہ کسی عاشق کا جنم ہوتا ہے اک وفادار سگ کوئے صنم ہوتا ہے تان اور تال کی تشریح مغنی جانے جس کو کھا لیتے ہیں عشاق وہ سم ہوتا ہے تیرا عاشق ہے مگر ضبط کی الٹی تصویر چیخ اٹھتا ہے کبھی درد جو کم ہوتا ہے تین حرف اس پہ جو کرتے نہیں اتنی سی بات کاف رے میم کے ملنے سے کرم ہوتا ہے بے ...

مزید پڑھیے

شامت الیکشن

واہ بی میونسپلٹی جان کیا کہنا ترا تو چچی لیلیٰ کی عاشق تیرا مجنوں کا چچا اپنی خودداری کو کھو کر تجھ پہ جو شیدا ہوا بے خودی میں یہ زبان حال سے کہتے سنا بسکہ دیوانہ شدم عقل رسا درکار نیست عاشق میونسپلٹی راحیا درکار نیست تیرا خواہش مند ہر قید لیاقت سے بری جس کا جی چاہے لڑے اور لڑ کے ...

مزید پڑھیے

سیاحت ظریف

کچھ ریل گھر کا حال کروں مختصر بیاں وہ نو بجے کا وقت وہ ہنگامے کا سماں قلیوں کا لاد لاد کے لانا وہ پیٹیاں بجنا وہ گھنٹیوں کا وہ انجن کی سیٹیاں گڑ بڑ مسافروں کی بھی اک یادگار تھی عورت پہ مرد مرد پہ عورت سوار تھی القصہ ریل جب سوئے جھانسی رواں ہوئی اور شکل لکھنؤ کی نظر سے نہاں ہوئی جو ...

مزید پڑھیے

جب کہا میں نے اس سے الفت ہے

جب کہا میں نے اس سے الفت ہے ہنس کے کہنے لگا اگر نہ ہوئی بید مجنوں کی ایک شاخ ہوئی وہ لچکتی ہوئی کمر نہ ہوئی وہ بھی گونگے بنے رہے ہم بھی گفتگو قصہ مختصر نہ ہوئی اس نے بیمار کا گلا گھونٹا جب دوا کوئی کارگر نہ ہوئی طائر دل کا جو شکار کرے وہ تو شکرہ ہوا نظر نہ ہوئی دختر رز کو لے گئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 256 سے 6203