قومی زبان

چہرے جتنے روپ بدلتا رہتا ہے

چہرے جتنے روپ بدلتا رہتا ہے آئینے میں نقص نکلتا رہتا ہے ذہن پہ بڑھتا جاتا ہے صدیوں کا دباؤ لمحہ کیسے کرب میں ڈھلتا رہتا ہے دل ہی نہیں روشن تو دن کیا نکلے گا سورج تو تاریخ بدلتا رہتا ہے یادوں تنہائی سے باتیں کرتی ہیں سناٹا آواز بدلتا رہتا ہے اک لمحے کی حقیقت تک جانے کے ...

مزید پڑھیے

چھاؤں سے اس نے دامن بھر کے رکھا ہے

چھاؤں سے اس نے دامن بھر کے رکھا ہے جس نے دھوپ کو اوپر سر کے رکھا ہے پل پل خون بہاتا ہوں ان آنکھوں سے میں نے خود کو مندہ مر کے رکھا ہے ساری بات ہی پہلے قدم کی ہوتی ہے پہلا قدم ہی تو نے ڈر کے رکھا ہے اپنے ہی بس پیچھے بھاگتا رہتا ہوں خود کو ہی بس آگے نظر کے رکھا ہے خود ہی کھڑے ہوئے ...

مزید پڑھیے

جانتی ہوں کہ وہ خفا بھی نہیں

جانتی ہوں کہ وہ خفا بھی نہیں دل کسی طور مانتا بھی نہیں کیا وفا و جفا کی بات کریں درمیاں اب تو کچھ رہا بھی نہیں درد وہ بھی سہا ہے تیرے لیے میری قسمت میں جو لکھا بھی نہیں ہر تمنا سراب بنتی رہی ان سرابوں کی انتہا بھی نہیں ہاں چراغاں کی کیفیت تھی کبھی اب تو پلکوں پہ اک دیا بھی ...

مزید پڑھیے

اس کا خیال دل میں گھڑی دو گھڑی رہے

اس کا خیال دل میں گھڑی دو گھڑی رہے پھر اس کے بعد میز پہ چائے پڑی رہے ایسا نہیں کہ ہم کریں باتیں نہ بے حساب لیکن یہ کیا کہ کیل سی دل میں گڑی رہے پھر گھر میں ایک آہنی پنجرہ دکھائی دے کھڑکی میں کافی دیر جو لڑکی کھڑی رہے بکھری ہو جیسے چاندنی برگ گلاب پر مسکان اس کے ہونٹوں پہ ایسے پڑی ...

مزید پڑھیے

محبت ایک ایسا راستہ ہے

محبت ایک ایسا راستہ ہے چلو جتنا یہ اتنا راستہ ہے ہوا ہے دھند ہے اور تیز بارش پہاڑی ہے ذرا سا راستہ ہے کبھی اکتا گیا میں خود ہی خود سے کبھی اپنا ہی دیکھا راستہ ہے زمانے ہو گئے ہیں چلتے چلتے کہاں جاتا یہ دل کا راستہ ہے کہیں سانسیں چڑھا دیتا ہے میری کہیں آہستہ چلتا راستہ ہے وہی ...

مزید پڑھیے

کھویا ہوا تھا حاصل ہونے والا ہوں

کھویا ہوا تھا حاصل ہونے والا ہوں میں کاغذ پر نازل ہونے والا ہوں چھوڑ آیا ہوں پیچھے سب آوازوں کو خاموشی میں داخل ہونے والا ہوں خود ہی اپنا رستہ دیکھ رہا ہوں میں خود ہی اپنی منزل ہونے والا ہوں مجھ کو شریک محفل بھی کب سمجھیں وہ میں جو جان محفل ہونے والا ہوں جانے کیا کہہ جائے گا ...

مزید پڑھیے

دیکھو گھر کر بادل آ بھی سکتا ہے

دیکھو گھر کر بادل آ بھی سکتا ہے آدھی رات وہ پاگل آ بھی سکتا ہے یوں جو اڑتا پھرتا ہے تیرے سر پر پیروں میں یہ آنچل آ بھی سکتا ہے راکھ کے ڈھیر میں آگ چھپی بھی ہوتی ہے خالی آنکھ میں کاجل آ بھی سکتا ہے لازم ہے کیا سب کی پیاس ہو اک جیسی ہو کر کوئی جل تھل آ بھی سکتا ہے اتنے موڑ سفر میں ...

مزید پڑھیے

یہ جو بپھرے ہوئے دھارے لیے پھرتا ہوں میں

یہ جو بپھرے ہوئے دھارے لیے پھرتا ہوں میں اپنے ہم راہ کنارے لیے پھرتا ہوں میں تابش و تاب لیے آئے گا سورج میرا رات بھر سر پہ ستارے لیے پھرتا ہوں میں برگ آوارہ صفت ساتھ مجھے بھی لے چل تیرے انداز تو سارے لیے پھرتا ہوں میں یہ الگ بات چرا لیتا ہے نظریں اپنی اس کی آنکھوں میں نظارے لیے ...

مزید پڑھیے

مجھ تک نگاہ آئی جو واپس پلٹ گئی

مجھ تک نگاہ آئی جو واپس پلٹ گئی پھیلا جو میرا شہر تو پہچان گھٹ گئی میں چپ رہا تو آنکھ سے آنسو ابل پڑے جب بولنے لگا مری آواز پھٹ گئی اس کا نہیں ہے رنج کہ تقسیم گھر ہوا پھولوں بھری جو بیل تھی آنگن میں کٹ گئی جینے کی خواہشوں نے سبھی زخم بھر دیے آنکھوں سے اشک میز سے تصویر ہٹ گئی دست ...

مزید پڑھیے

دکھ نہ سہنے کی سزاؤں میں گھرا رہتا ہے

دکھ نہ سہنے کی سزاؤں میں گھرا رہتا ہے شہر کا شہر دعاؤں میں گھرا رہتا ہے نہ بلاؤ تو بلاتا ہی نہیں ہے کوئی جس کو دیکھو وہ اناؤں میں گھرا رہتا ہے کوئی منزل ہے کہ دوری میں چھپی ہے کب سے کوئی رستہ ہے کہ پاؤں میں گھرا رہتا ہے دل کو فرصت نہیں ملتی کبھی امیدوں سے یہ سکھی شاذؔ گداؤں میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 250 سے 6203