جب سے وہ کہہ کے گئے ہیں کہ ابھی آتے ہیں
جب سے وہ کہہ کے گئے ہیں کہ ابھی آتے ہیں کوئی آتا ہے سمجھتا ہوں وہی آتے ہیں برگ و بار آتے ہیں شاخوں میں گل و غنچہ بھی وہ جب آتے ہیں چمن میں تو سبھی آتے ہیں اپنی قسمت کا ستارہ تو نہیں گردش میں نہ خبر آتی ہے ان کی نہ وہی آتے ہیں عشق صادق نے جھکایا سر حسن مغرور جن کو دعویٰ تھا نہ آنے ...