قومی زبان

کسی کی دین ہے لیکن مری ضرورت ہے

کسی کی دین ہے لیکن مری ضرورت ہے جنوں کمال نہیں ہے کمال وحشت ہے میں زندگی کے سبھی غم بھلائے بیٹھا ہوں تمہارے عشق سے کتنی مجھے سہولت ہے گزر گئی ہے مگر روز یاد آتی ہے وہ ایک شام جسے بھولنے کی حسرت ہے زمانے والے تو شاید نہیں کسی قابل جو ملتا رہتا ہوں ان سے مری مروت ہے ہوا بہار کی ...

مزید پڑھیے

عشق کی دیوانگی مٹ جائے گی

عشق کی دیوانگی مٹ جائے گی یا کسی کی زندگی مٹ جائے گی ختم ہو جائے گا جب قصہ حضور آپ کی حیرانگی مٹ جائے گی آپ بھی روئیں گے شاید زارزار پھول جیسی یہ ہنسی مٹ جائے گی ایک دن بجھ جائیں گے یہ مہر و ماہ یا نظر کی روشنی مٹ جائے گی یا فنا ہو جائیں گی گلیاں تری یا مری آواز ہی مٹ جائے ...

مزید پڑھیے

اس دشت بے پناہ کی حد پر بھی خوش نہیں

اس دشت بے پناہ کی حد پر بھی خوش نہیں میں اپنی خواہشوں سے بچھڑ کر بھی خوش نہیں اک سر خوشی محیط ہے چاروں طرف مگر بستی میں کوئی شخص کوئی گھر بھی خوش نہیں کتنے ہیں لوگ خود کو جو کھو کر اداس ہیں اور کتنے اپنے آپ کو پا کر بھی خوش نہیں یہ کیفیت غلام نہیں قید و بند کی اندر جو اپنے خوش ...

مزید پڑھیے

غبار دل سے نکالا نظر کو صاف کیا

غبار دل سے نکالا نظر کو صاف کیا پھر اس کے بعد محبت کا اعتراف کیا جو وہ نہیں تھا تو میں متفق تھا لوگوں سے وہ میرے سامنے آیا تو اختلاف کیا ہر ایک جرم کی پاتا رہا سزا لیکن ہر ایک جرم زمانے کا میں نے معاف کیا وہ شب گزارنے آئے گا میرے کوچے میں ہوائے شام نے دھیرے سے انکشاف کیا اس ...

مزید پڑھیے

میں اس کی انجمن میں اکیلا نہیں گیا

میں اس کی انجمن میں اکیلا نہیں گیا جو میں گیا تو پھر کوئی تنہا نہیں گیا میں چاہتا تھا اس کی نگاہوں سے کھیلنا لیکن ذرا سی دیر بھی کھیلا نہیں گیا ممکن نہیں تھا حسن و نظر کا موازنہ مجھ سے تو اس کو ٹھیک سے دیکھا نہیں گیا تحویل میں کسی کی پہنچ کے ہے خوش وہ دل جس کو کسی مقام پر رکھا ...

مزید پڑھیے

دکھاوا

شکستہ دیوار و در پہ سبزہ بہار کے راگ الاپتا ہے سیاہ درزوں میں گھاس کے زرد نیم جاں پھول ہنس رہے ہیں میں اپنی ویراں خزاں زدہ زندگی سے بیگانہ ہو گیا ہوں تھرک رہی ہے فسردہ ہونٹوں پہ اک سکوں بار مسکراہٹ جو مجھ کو مجھ سے چھپا رہی ہے میں ہنس رہا ہوں میں کھو گیا ہوں کسی کو ہموار سطح کی ...

مزید پڑھیے

کس قدر محدود کر دیتا ہے غم انسان کو

کس قدر محدود کر دیتا ہے غم انسان کو ختم کر دیتا ہے ہر امید ہر امکان کو گیت گاتا بھی نہیں گھر کو سجاتا بھی نہیں اور بدلتا بھی نہیں وہ ساز کو سامان کو اتنے برسوں کی ریاضت سے جو قائم ہو سکا آپ سے خطرہ بہت ہے میرے اس ایمان کو کوئی رکتا ہی نہیں اس کی تسلی کے لیے دیکھتا رہتا ہے دل ہر ...

مزید پڑھیے

پھولوں کی انجمن میں بہت دیر تک رہا

پھولوں کی انجمن میں بہت دیر تک رہا کوئی مرے چمن میں بہت دیر تک رہا آیا تھا میرے پاس وہ کچھ دیر کے لیے سورج مگر گہن میں بہت دیر تک رہا میں روکتا رہا اسے چالاکیوں کے ساتھ وہ اپنے بھولے پن میں بہت دیر تک رہا جو شہ ملی تو دل مرا بیباک ہو گیا نیرنگیٔ بدن میں بہت دیر تک رہا آنکھوں میں ...

مزید پڑھیے

یاد کرنے کے زمانے سے بہت آگے ہیں

یاد کرنے کے زمانے سے بہت آگے ہیں آج ہم اپنے ٹھکانے سے بہت آگے ہیں کوئی آ کے ہمیں ڈھونڈے گا تو کھو جائے گا ہم نئے غم میں پرانے سے بہت آگے ہیں جسم باقی ہے مگر جاں کو مٹانے والے روح میں زخم نشانے سے بہت آگے ہیں اس قدر خوش ہیں کہ ہم خواب فراموشی میں جاگ جانے کے بہانے سے بہت آگے ...

مزید پڑھیے

کوئی قصور نہیں میری خوش گمانی کا

کوئی قصور نہیں میری خوش گمانی کا اثر ہے یہ تری آنکھوں کی بے زبانی کا کسی نے میری محبت کو کر لیا محفوظ خیال آیا کسی کو تو پاسبانی کا برائے نام سا پل بھی نہیں بنا مجھ سے کہ کچھ علاج نہیں تھا تری روانی کا ہمارے دل کا المناک دور ہے شاید سمجھ رہے ہیں جسے کھیل سب جوانی کا وہ داستان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 191 سے 6203