کسی کی دین ہے لیکن مری ضرورت ہے
کسی کی دین ہے لیکن مری ضرورت ہے جنوں کمال نہیں ہے کمال وحشت ہے میں زندگی کے سبھی غم بھلائے بیٹھا ہوں تمہارے عشق سے کتنی مجھے سہولت ہے گزر گئی ہے مگر روز یاد آتی ہے وہ ایک شام جسے بھولنے کی حسرت ہے زمانے والے تو شاید نہیں کسی قابل جو ملتا رہتا ہوں ان سے مری مروت ہے ہوا بہار کی ...