آنگن
در دیوار دریچے آنگن دہلیزیں دالان اور کمرے سارے روپ یہ کتنے نازک سوچو تو مٹی کے کھلونے میرے لیے یہ کنج عبادت میرے لیے یہ کوہ صداقت میرے لیے یہ منزل وعدہ خلد تحفظ قصر رفاقت جس کے راج سنگھاسن بیٹھی میں رانی ہوں میں بیچاری باہر چاہے طوفاں آئیں لیکن یاں سب چین سے سوئیں جب جاگیں تب ...