قومی زبان

دیکھ پائے تو کرے کوئی پذیرائی بھی

دیکھ پائے تو کرے کوئی پذیرائی بھی میں تماشا بھی ہوں اور اس کا تماشائی بھی کون سمجھے مری آبادی و ویرانی کو جھیل کی سطح پہ کشتی بھی ہے اور کائی بھی قفس وصل میں سب شور ہمارا تو نہیں پھڑپھڑاتا ہے بہت طائر تنہائی بھی اب اداسی کسی دیرینہ نشے کے مانند میری کمزوری بھی ہے اور توانائی ...

مزید پڑھیے

سیاست جب ضرورت ہو نیا رشتہ بناتی ہے

سیاست جب ضرورت ہو نیا رشتہ بناتی ہے کوئی کتنا مخالف ہو اسے اپنا بناتی ہے شناسا خوف کی تصویر ہے اس کی بیاضوں میں مری بیٹی حسیں پنجرے میں اک چڑیا بناتی ہے تخیل حرف میں ڈھل کر ابھر آتا ہے کاغذ پر سراپا سوچتا ہوں میں غزل چہرہ بناتی ہے کسی پر مہرباں ہوتی ہے جب بھی دولت دنیا اسے صاحب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1454 سے 6203