قومی زبان

مغز شاعر

اک روز ڈاکٹر سے یہ میں نے کہا جناب مدت سے کہہ رہا ہوں میں نظمیں بہت خراب چیک کر کے میری کھوپڑی کہنے لگا حضور بھیجے میں گھس گیا ہے کوئی آپ کے فتور بولا بدلنا ہوگا یہ بھیجا حضور کا بس ہے یہی علاج دماغی فتور کا میں نے کہا دماغ کہاں اور کہاں حقیر بولا کہ دان مانگیے پھر دیکھیے شریر میں ...

مزید پڑھیے

ٹمپریری جاب

بن گیا ہوں میں منسٹر رات کو دیکھا یہ خواب سامنے رکھے ہیں میرے ٹوسٹ مکھن اور شراب سامنے بیٹھی ہوئی ہے اک حسیں سی چھوکری کہہ رہی ہے با ادب ہوں آپ کی سکریٹری کالی آنکھیں گورے عارض زلف مانند سحاب شوخ لب وہ شوخ لہجہ مست آنکھوں میں شراب شرم سے بوجھل وہ آنکھیں لب پہ ہلکی سی ہنسی گورے ...

مزید پڑھیے

اکیسویں صدی کا آدمی

دنیا ترقیوں پہ ہے معبود کی قسم انسان کر رہا ہے ترقی قدم قدم رکھیں گے اس طرح قد بالا کو میڈیم لمبے منش سے باندھ کے ناٹے کی اب قلم ڈھل جائیں گے شباب سے پہلے جو اپنے سن گملوں میں بوئے جائیں گے بچے بھی ایک دن انساں نے آسمان پہ قبضہ دکھا دیا اس آدمی کے خون کو اس میں چڑھا دیا عورت کا مغز ...

مزید پڑھیے

گدھوں کا مشاعرہ

اک رات میں نے خواب میں دیکھا یہ ماجرا اک جا پہ ہو رہا ہے گدھوں کا مشاعرہ وہ نیلے پیلے قمقمے میداں ہرا بھرا بیٹھا ہے فرش سبز پہ اک سرمئی گدھا جتنے گدھے ہیں سب کے تخلص ہیں واہیات کونے میں بیٹھی دم کو ہلاتی ہیں خریات کچھ موٹے تازے خر تھے کئی لاغر و نحیف کچھ فنے خاں گدھے تھے کئی ...

مزید پڑھیے

کیوں دل ترے خیال کا حامل نہیں رہا

کیوں دل ترے خیال کا حامل نہیں رہا یہ آئینہ بھی دید کے قابل نہیں رہا صحرا نوردیوں میں گزاری ہے زندگی اب مجھ کو خوف دورئ منزل نہیں رہا ارباب رنگ و بو کی نظر میں خدا گواہ کب احترام کوچۂ قاتل نہیں رہا زنداں میں خامشی ہے کوئی بولتا نہیں حد ہو گئی کہ شور سلاسل نہیں رہا مانوس اس قدر ...

مزید پڑھیے

اٹھ چلے وہ تو اس میں حیرت کیا

اٹھ چلے وہ تو اس میں حیرت کیا ان کے آگے وفا کی قیمت کیا اس کے کوچے سے ہو کے آیا ہوں اس سے اچھی ہے کوئی جنت کیا شہر سے وہ نکلنے والے ہیں سر پہ ٹوٹے گی پھر قیامت کیا تیرے بندوں کی بندگی کی ہے یہ عبادت نہیں عبادت کیا کوئی پوچھے کہ عشق کیا شے ہے کیا بتائیں کہ ہے محبت کیا آنسوؤں سے ...

مزید پڑھیے

ساری جفائیں سارے کرم یاد آ گئے

ساری جفائیں سارے کرم یاد آ گئے جیسے بھی یاد آئے ہوں ہم یاد آ گئے جب بھی کہیں سے پیار ملا یا خوشی ملی دنیا کے درد و رنج الم یاد آ گئے دیکھیں ہیں جب بھی گل کے قریں چند تتلیاں کتنے خیال و خواب بہم یاد آ گئے لکھا تھا تم نے خط میں کہ تم نے بھلا دیا کیا حادثہ ہوا ہے کہ ہم یاد آ ...

مزید پڑھیے

کرکٹ میچ

بیزار ہو گئے تھے جو شاعر حیات سے کرکٹ کا میچ کھیل لیا شاعرات سے واقف نہ تھے جو دوستو! عورت کی ذات سے چوکے لگا رہے تھے خیالوں میں رات سے آئی جو صبح شام کے نقشے بگڑ گئے سروں سے ہم غریبوں کے اسٹمپ اکھڑ گئے ناز و ادا و حسن نے جادو جگا دیے پہلے تو اوپنر کے ہی چھکے چھڑا دیے ون ڈاؤن پہ جو ...

مزید پڑھیے

علاء الدین کا توبوز

یقیں ہے جائے گی اک روز جان دلی میں تلاش کرتے ہوئے اک مکان دلی میں تمام دن کے سر راہ ہم تھکے ہارے شکم میں چوہے اچھلتے تھے بھوک کے مارے بڑا تھا میرا شکم دوستو میں کیا کرتا رقم تھی جیب میں کم دوستو میں کیا کرتا چلا خرید کے توبوز سوئے دشت حقیر لگی جو پاؤں میں ٹھوکر سنور گئی تقدیر غم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1380 سے 6203