فضائے عالم قدسی میں ہے نشو و نما میری
فضائے عالم قدسی میں ہے نشو و نما میری مکافات عمل سے دور ہے بیم و رجا میری شریعت ہے ازل سے مہر پیمان وفا میری طریقت خاتم احرام تسلیم و رضا میری حقیقت ہے سواد خاطر بے مدعا میری حریم معرفت دع ما کدر خود نا صفا میری تری ذات مقدس ہے مبرا شرک غیری سے کہ نور ذات میں سایہ صفت ہستی ہے ...