حساب عمر کرو یا حساب جام کرو
حساب عمر کرو یا حساب جام کرو بقدر ظرف شب غم کا اہتمام کرو اگر ذرا بھی روایت کی پاسداری ہے خرد کے دور میں رسم جنوں کو عام کرو خدا گواہ فقیروں کا تجربہ یہ ہے جہاں ہو صبح تمہاری وہاں نہ شام کرو نہ رند و شیخ نہ ملا نہ محتسب نہ فقیہ یہ مے کدہ ہے یہاں سب کو شاد کام کرو وہی ہے تیشہ ...