قومی زبان

ملا نہ دیر و حرم میں کہیں نشاں ان کا

ملا نہ دیر و حرم میں کہیں نشاں ان کا حد نگاہ سے باہر ہے آستاں ان کا نگاہ ملتے ہی ہم دل پکڑ کے بیٹھ گئے لگا جو تیر نظر آ کے ناگہاں ان کا کئے ہیں راہ وفا میں وہیں وہیں سجدے ملا ہے نقش کف پا جہاں جہاں ان کا ہٹے نہ راہ وفا سے وفا کے دیوانے ہزار بار لیا تم نے امتحاں ان کا بسے ہوئے ہیں ...

مزید پڑھیے

کر کے مسحور مجھے چشم کرم سے پہلے

کر کے مسحور مجھے چشم کرم سے پہلے کر دیا مہر بہ لب اس نے ستم سے پہلے اک ہمیں کو نہیں ناکامئ قسمت کا گلا نامراد اور بھی کچھ گزرے ہیں ہم سے پہلے میں خطا‌ وار ہوں لیکن مری تقصیر معاف آہ کب منہ سے نکلنی ہے ستم سے پہلے تو نے غم دے کے مجھے دولت دنیا دے دی زندگی ایسی کہاں تھی ترے غم سے ...

مزید پڑھیے

کوفے کے قریب ہو گیا ہے

کوفے کے قریب ہو گیا ہے لاہور عجیب ہو گیا ہے ہر دوست ہے میرے خوں کا پیاسا ہر دوست رقیب ہو گیا ہے ہر آنکھ کی ظلمتوں سے یاری ہر ذہن مہیب ہو گیا ہے کیا ہنستا ہنساتا شہر یارو حاسد کا نصیب ہو گیا ہے پھیلا تھا مسیح وقت بن کر سمٹا تو صلیب ہو گیا ہے کاغذ پہ اگل رہا ہے نفرت کم ظرف ادیب ہو ...

مزید پڑھیے

ترقی پسند ادیب کا جنازہ

ترقی پسند ادیب کا جنازہ مجروح سلطانپوری نے ساحر لدھیانوی کی کسی بات پر برہم ہوتے ہوئے کہا۔ ’’یاد رکھو ساحر!جب تم مرجاؤ گے تو اردو کا کوئی ترقی پسند ادیب تمہارے جنازے کے ساتھ نہیں جائے گا۔‘‘ ساحر نے فی الفور جواب دیا۔ ’’مجھے اس کا کوئی غم نہیں ، لیکن میں پھر بھی ہر ترقی پسند ...

مزید پڑھیے

کنواری انٹلکچول کی تلاش

ساحر لدھیانوی کے کسی دوست نے اس سے کہا۔ ’’یار ساحر !اب تو تمہاری زندگی ہر اعتبار سے آسودہ ہے ۔ اب تو تمہیں شادی کرلینی چاہئے ۔‘‘ ساحر نے غیر معمولی طور پر سنجیدہ ہوکر جواب دیا۔ ’’چاہتا تو میں بھی ہوں، لیکن کسی ایسی خاتون کے ساتھ کرنا چاہتا ہوں جو کنواری ہونے کے ساتھ ساتھ ...

مزید پڑھیے

پدم شری کی ذلت

ساحر لدھیانوی نے جاں نثار اختر سے کہا۔ ’’یار جاں نثار!اب تم کو ’’پدم شری‘‘خطاب مل جانا چاہئے ۔‘‘ جاں نثار نے پوچھا۔’’کیوں؟‘‘ ساحر نے جواب دیا۔’’اب ہم سے اکیلے یہ ذلت برداشت نہیں ہوتی۔‘‘

مزید پڑھیے

صبح عشرت زندگی کی شام ہو کر رہ گئی

صبح عشرت زندگی کی شام ہو کر رہ گئی حسرت دل موت کا پیغام ہو کر رہ گئی تم نے دنیا کو لٹا دیں نعمتیں اچھا کیا میری دنیا بس تمہارا نام ہو کر رہ گئی جس سحر کی ہم نے مانگی تھی اسیری میں دعا وہ سحر آئی تو لیکن شام ہو کر رہ گئی اے محبت کے خدا اے عشق کے پروردگار ہر تمنا اب خیال خام ہو کر رہ ...

مزید پڑھیے

برسو رام دھڑاکے سے

برسو رام دھڑاکے سے بڑھیا مر گئی فاقے سے کل جگ میں بھی مرتی ہے ست جگ میں بھی مرتی تھی یہ بڑھیا اس دنیا میں سدا ہی فاقے کرتی تھی جینا اس کو راس نہ تھا پیسا اس کے پاس نہ تھا اس کے گھر کو دیکھ کے لکشمی مڑ جاتی تھی ناکے سے برسو رام دھڑاکے سے جھوٹے ٹکڑے کھا کے بڑھیا تپتا پانی پیتی تھی مرتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1319 سے 6203