اب انتہا کا ترے ذکر میں اثر آیا
اب انتہا کا ترے ذکر میں اثر آیا کہ منہ سے نام لیا دل میں تو اتر آیا بہت دنوں پہ مری چشم میں نظر آیا اے اشک خیر تو ہے، تو کدھر کدھر آیا ہزار شکر کہ اس دل میں تو نظر آیا یہ نقشہ صفحۂ خالی پہ جلد اتر آیا بشر حباب کی صورت ہمیں نظر آیا بھری جو قطرہ کے اندر ہوا ابھر آیا زباں پہ آتا ہے ...