حقا کہ وہ جادۂ وفا سے بھی پھرا
حقا کہ وہ جادۂ وفا سے بھی پھرا احباب و عزیز و اقربا سے بھی پھرا اے مدرسۃ العلوم جو تجھ سے پھرا سچ پوچھو تو خانۂ خدا سے بھی پھرا
حقا کہ وہ جادۂ وفا سے بھی پھرا احباب و عزیز و اقربا سے بھی پھرا اے مدرسۃ العلوم جو تجھ سے پھرا سچ پوچھو تو خانۂ خدا سے بھی پھرا
کیا مفت زاہدوں نے الزام لیا تسبیح کے دانوں سے عبث کام لیا یہ نام وہ تھا جس کو بے گنتی لیتے کیا لطف جو گن گن کے ترا نام لیا
اس سلسلۂ شہود کو توڑ دیا گھبرا کے عدم کی سمت منہ موڑ دیا کب تک ان سختیوں کو جھیلا کرتی اکتا کے مری روح نے جی چھوڑ دیا
جس وقت کا ڈر تھا وہ شباب آ پہنچا ہنگام رحیل و پا تراب آ پہنچا جاگو جاگو حشر تک سونا ہے چونکو چونکو کہ وقت خواب آ پہنچا
کیوں کر نہ رہے غم نہانی تیرا دنیا میں بتا کون ہے ثانی تیرا ہم لے کے عصا دور تلک ڈھونڈ آئے کوسوں نہیں نام اے جوانی تیرا
ہادی ہوں میں کام ہے ہدایت میرا دم بھرتے ہیں ارباب بلاغت میرا میں شہر میں رہتا ہوں سند ہیں میرے شعر منہ چومتی ہے آب فصاحت میرا
بعض اہل وطن سے اب بھی دکھ پاتا ہوں تحصیل کمال کر کے پچھتاتا ہوں ایسوں کی صداؤں کا کچھ اتنا نہیں وزن کیا عرض کروں اس پہ دبا جاتا ہوں
اخلاق سے جہل علم و فن سے غافل مضموں جو دیکھیں تو مثل خط باطل اردو اخبار کے اڈیٹر اکثر لکھے نہ پڑھے نام محمد فاضل
ارباب قیود تجھ کو کیا دیکھیں گے خواہان نمود تجھ کو کیا دیکھیں گے رویت کے لئے شرط ہے میدان فنا پابند وجود تجھ کو کیا دیکھیں گے
شہروں میں پھرے نہ سوئے صحرا نکلے فیاض جو ہو وطن کے وہ کیا نکلے پیاسے آتے ہیں آپ دریا کی طرف پیاسوں کی تلاش کو نہ دریا نکلے