پھر تقاضا ہے کہ تجدید وفا ہو جائے

پھر تقاضا ہے کہ تجدید وفا ہو جائے
خون دل نذر کرو فرض ادا ہو جائے


ہم ہیں سرشار محبت نہ شکایت نہ گلہ
آپ کو عذر ہے تو عذر جفا ہو جائے


تشنہ لب کوئی نہ رہ جائے تری محفل میں
جشن ہے آج تو رندوں کا بھلا ہو جائے


تیرا مے خانہ سلامت رہے آباد رہے
ساقیا ہم کو بھی اک جام عطا ہو جائے


سست گامی سے نہیں طبع رواں کو نسبت
جادۂ شوق پہ آئے تو ہوا ہو جائے


یوں تڑپ اے دل بیتاب کہ دھڑکن سے تری
برق رفتار زمانے کی فضا ہو جائے


ظالمو سوچ لو انجام ستم کیا ہوگا
آج کا دن ہی اگر روز جزا ہو جائے


اہل دل کیف محبت ہے اسی کے دم سے
درد دل اور سوا اور سوا ہو جائے


مے کشو آؤ چلو شیخ و برہمن سے ملیں
رات کا پچھلا پہر صرف دعا ہو جائے


صبح ہو جائے تو منزل کی طرف تیز قدم
اس قدر تیز کہ شل بانگ درا ہو جائے


راہ میں دیر و حرم آئیں تو سجدہ کر لو
شاید اس طرح غریبوں کا خدا ہو جائے