مرے جرم عشق کی اس قدر مجھے اے ندیم سزا نہ دے
مرے جرم عشق کی اس قدر مجھے اے ندیم سزا نہ دے
مرے دل پہ اتنی جفا نہ کر مجھے یوں نظر سے گرا نہ دے
یہی ایک گوہر بے بہا مری زندگی کا ہے ماحصل
مجھے ڈر ہے تیری یہ بے رخی غم آرزو کو مٹا نہ دے
ہے خموش آتش زندگی مگر اک شرر ترے عشق کا
مرے دل میں اب بھی چمک رہا ہے اسے بھی یاس بجھا نہ دے
اب اگرچہ قابل اعتبار ہے غیر ہی کی وفا مگر
مری اس وفا کو جو اعتبار سے گر چکی ہے بھلا نہ دے
جو مجھے یقیں ہو کہ میں ہی تیرے حریم غم کا رفیق ہوں
تو بلا سے گر مجھے بزم عیش میں بار تیری عطا نہ دے