موت پر نانی کے غم میں بال منڈوائیں گے کیا

موت پر نانی کے غم میں بال منڈوائیں گے کیا
پھر سے بڑھ آنے تلک نانا نہ مر جائیں گے کیا


پھر سے وہ یوگا کی ورزش کر رہے ہیں بام پر
پھر سے لٹھ اپنے محلے میں وہ چلوائیں گے کیا


ایک بوسہ دے کے وہ بولے مزہ آیا نہیں
ایک بوسے میں رموز عشق کھل جائیں گے کیا


پہلے دل پر ہاتھ مارا پھر جگر بھی کھا گئے
نوچ کر وہ اب ہماری بوٹیاں کھائیں گے کیا


بعد مدت کے ہوئے ہیں ہم تمہارے مہماں
اب بنا کھائے پئے یوں ہی سٹک جائیں گے کیا


آ رہے ہیں وہ پسنجر سے الٰہی خیر ہو
دیکھیے ہم زندگی میں ان سے مل پائیں گے کیا


چار دن کی زندگی میں دو کٹے سسرال میں
دو دنوں کے واسطے مسرورؔ گھر جائیں گے کیا