کاش ہم سے بھی وہ رنجش کرتے
کاش ہم سے بھی وہ رنجش کرتے
ہم منا لینے کی کوشش کرتے
آپ سن لیتے گر ہمدردی سے
ہم بھی تھوڑی سی گزارش کرتے
تیرا انداز تھا یکتا ورنہ
لوگ کس کس کی پرستش کرتے
زندگی تیری عطا تھی ورنہ
ہم کہاں جینے کی خواہش کرتے
ہم بھی شیریں کے رہے ہیں طالب
ہم بھی فرہاد سی کاوش کرتے
کاش وہ بھی کبھی سن کر انورؔ
میرے شعروں کی ستائش کرتے