ہماری مشترک تہذیب اور اردو غزل

ہماری مشترک تہذیب، اس برصغیر میں، جنوبی ایشیا، جنوبی مشرقی ایشیا اور مغربی اور وسطی ایشیا کی تہذیبوں کے اختلاط سے عبارت ہے۔ اس کی تشکیل میں ہندوستان کے قدیم باشندوں، دراوڑوں، آریا، وسط ایشیا کے غارت گر قافلوں اور جنوبی ساحل، مغربی ساحل اور شمال مغرب سے مسلمانوں کی آمد کا اثر اور نفوذ کار فرما ہے۔


اس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ہندوستان کی پوری تاریخ کی وارث ہے اور قدیم ہندوستان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، ہندوستان کی تاریخ کے ارتقا، ہندوستانی مزاج کے رچاؤ اور اس کی جذب وانجذاب کی صلاحیت پر اصرار کرتی ہے۔ یہ ہمارے ازمنۂ وسطیٰ کو بھولنا یا نظر انداز کرنا یا حرف غلط کی طرح مٹانا نہیں چاہتی، اس کی امین اور آئینہ دار ہے اور یہ مغربی تہذیب کو بھی، مارکس کے الفاظ میں، تاریخ کا ایک آلہ سمجھتے ہوئے، اس سے متاثر ہے اور اس لیے اپنی آغوش وا رکھتی ہے بلکہ ان پر اصرار بھی کرتی ہے، یعنی ایک بنیادی وحدت اور اس وحدت میں ایک رنگا رنگ، پہلو دار، اپنے ہر ذرے میں آفتاب کی تابانی لیے ہوئے کثرت کو زبان سے ہی نہیں دل سے بھی تسلیم کرتی ہے۔


اس تہذیب کی مظہر ہماری بہت سی قومی زبانیں ہیں مگر ان میں اردو کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ نہ تو یہ صرف ایک یا دو ریاستوں کے حدود میں مقید ہے، نہ ایک مذہبی گروہ کے ماننے والوں میں، بلکہ خدا کے گھر کی طرح اس کی بہت سی ریاستوں میں بستیاں ہیں اور اس کے بولنے والے یا اس کے سمجھنے والے کشمیر سے کنیا کماری تک اور کلکتے سے کچھ تک پھیلے ہوئے ہیں، یہ وہ زبان ہے جس میں ایشیائی کرنیں دوسری زبانوں سے زیادہ جلوہ گر ہیں اور جو کسی سایۂ دیوار میں آرام کی جویا نہیں بلکہ زندگی کی کڑی دھوپ میں اپنے خون پسینے سے کاروبار شوق کی توسیع کرتی رہی ہے اور رنج وراحت اور سختی وسستی کو ہموار کرنے میں لگی رہی ہے۔


ہندستانی تہدیب کے جلوۂ صدرنگ میں اردو زبان وادب کے آئینہ خانے کے نقش و نگار اور ان کی جامعیت اور معنویت کا سب سے اچھا صحیفہ غالبؔ کی ایک غزل میں ملتا ہے اور یہ غزل کا ایک منشور بھی ہے،


ہے رنگِ لالہ و گل و نسریں جدا جدا
ہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے


سرپائے خم پہ چاہیے ہنگامِ بے خودی
رو سوئے قبلہ وقتِ مناجات چاہیے


یعنی بحسبِ گردشِ پیمانۂ صفات
عارف ہمیشہ مست مئے ذات چاہیے


ہماری مشترکہ تہذیب میں مستی اندیشہ ہائے افلاکی کے ساتھ زمین کے ہنگاموں کو سہل کرنے کے آداب بھی ہیں۔ اسی لیے شروع سے اس میں خدا، کائنات، انسان اور سب کے آپس میں رشتے کی جستجو ملتی ہے، اس میں صوفیوں اور سنتوں کے اثر سے روح کا نغمہ اور دنیا کی جنت میں جسم کی دلفریب آنچ بھی نظر آتی ہے۔ اس میں بازار، خانقاہ اور دربار، تینوں تہذیبی اداروں کے نقوش ثبت ہیں۔ اس میں چلن، اجزا میں کل کی جستجو، ظاہر میں باطن کی تلاش، فکر کی پرواز اور نشیمن کی تلاش، سبھی کا عکس ہے۔ اس میں کھیتوں، کھلیانوں، چٹیل میدانوں، سربفلک پہاڑوں، پرشکوہ دریاؤں اور نرم خرام ندیوں، گلشنِ کشمیر اور دکن کی دلاری، سبھی کے جلوے ہیں۔


یہ جلوے نظم میں ربط و تنظیم، وضاحت اور صراحت، حقیقت نگاری اور جزئیات نگاری لیے ہوئے ہیں مگر غزل میں جو اشاروں کا آرٹ ہے، جس میں مشاہدۂ حق کو بھی بادۂ ساغر کہے بغیر نہیں بنتی، جو بقولِ فراقؔ انتہاؤں کا سلسلہ ہے، جو گنجینۂ معنی کا طلسم ہے، جو حدیثِ دلبری بھی ہے اور صحیفۂ کائنات بھی، جو اپنی عبارت، اشارت اور ادا کے اعتبار سے غالبؔ کے محبوب کی طرح ہے۔ اس مشترکہ تہذیب نے اور اس کے شاندار اور طرحدار مظہر اردو زبان نے صرف عبادت DEVOTIONAL کی شاعری نہیں کی، بلکہ زندگی کی خوشیوں اور نامرادیوں، فتح وشکست، ولولے اور مایوسی، محبت اور نفرت، رشک، خدمت، وفا اور جفا، اخلاق اور اس سے روگردانی، رہبری اور رہزنی، ساحل و طوفان، مرمر کر جینے اور جیتے جی مر رہنے کی شاعری بھی کی ہے۔ غزل ہماری ساری شاعری نہیں ہے، مگر ہماری شاعری کا عطر ضرور ہے۔ صرف غزل پر نظر مرکوز رکھنا یا غزل کو ٹاٹ باہر قرار دینا، دونوں آدابِ سخن فہمی کے منافی ہیں۔


دنیا کی ہرزبان میں مذہبی شاعری کا رول بہت نمایاں رہا ہے۔ مذہبی شاعری برابر ہوتی رہے گی، مگر جیسے زندگی سادگی سے پیچیدگی کی طرف اور سماج اکہرے پن سے تہہ داری اور پہلو داری کی طرف بڑھے گا، دنیوی شاعری کی لے بھی بڑھے گی۔ اردو شاعری سرسید کے اس قول کی تفسیر کہی جا سکتی ہے کہ دین چھوڑنے سے دنیا نہیں جاتی مگر دنیا کے چھوڑنے سے دین بھی جاتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو شاعری شاید دوسری ہم عصر ہندوستانی زبانوں سے زیادہ دنیا اور امور دنیا کا پاس رکھتی ہے، یا آج کی اصطلاح میں زیادہ سیکولر ہے۔ آخر کوئی تو وجہ ہے کہ آج جب آزاد ہندوستان میں اردو اپنا حق مانگ رہی ہے، ارو اردو ادب، غزل کے اشعار کے ذریعہ سے، مجالس قانون ساز میں، حکومت کے ایوانوں میں، عوامی جلسوں اور تقریروں میں، دفتروں کے مباحث میں، مزدوروں کی مانگوں میں، اپنا ما فی الضمیر بیان کرتی ہے بڑی بڑی داستانوں کو چند اشاروں میں بیان کر دیتی ہے اور مسرت کے ساتھ بصیرت کے خزانے لٹا دیتی ہے۔


یہاں میں دو مثالیں دینا چاہتا ہوں۔ ۱۹۷۳ء میں یوپی میں کانگریس کی حکومت پہلی دفعہ قائم ہوئی۔ مسز پنڈت وزیر صحت تھیں۔ شاہ جہاں پور کے ایک ممبر نے ان سے وہاں کے اسپتال کی ناگفتہ بہ حالت کے متعلق استفسار کیا۔ محترمہ نے کہا حکومت کو علم نہیں ہے۔ ممبر نے ضمنی سوالات کیے جن میں مسئلے پر کچھ روشنی ڈالی۔ وزیر نے ایک بے نیازی کے ساتھ کہا، حکومت اس کانوٹس چاہتی ہے۔ اس پر بپھر کر ممبر نے جو شعر پڑھا وہ آج بھی ہمارے اربابِ اقتدار پر صادق آتا ہے،


تم کو آشفتہ مزاجوں کی خبر سے کیا کام
تم سنبھالا کرو بیٹھے ہوئے گیسو اپنے


اب حال کے واقعات کے سلسلے میں داغ کی غزل کا ایک شعر سنیے،


خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا
جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا


پارلیمنٹ کا ایک واقعہ یاد آتا ہے جو مرحوم سعادت علی خاں نے مجھے سنایا تھا۔ سی، ڈی، دیشمکھ نے وزارت سے استعفا دے دیا تھا اور پارلیمنٹ میں جواہر لال نہرو پر یہ الزام لگایا تھا کہ وہ آمرانہ طریق کار برت رہے ہیں۔ اپنی بات کو واضح کرنے کے لیے انھوں نے احسان دانش کا ایک شعر پڑھا تھا۔ اپنی جوابی تقریر میں جواہر لال نہرو نے ان الزامات کا تفصیل سے جواب دیا اور آخر میں اکبر کا یہ شعر پڑھا،


ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا


آزاد ہندوستان کا عجوبہ یہ ہے کہ اگرچہ اردو زبان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا ہے اور اس کے جائز حقوق ابھی تک اسے نہیں ملے ہیں، مگر اردو کا ادب پہلے سے زیادہ مقبول ہے (خواہ دیوناگری رسم خط کے ذریعہ سے سہی) اور آج اردو ادب کا جادو سر پر چڑھ کر بول رہا ہے۔ اردو دوستوں کی قدرتی خواہش یہ ہے کہ زبان کو ترقی کرنے کا موقع ملے اور اس کے چلن اور تعلیم میں سہولتیں ہوں تاکہ ادب کو اس کی جڑوں سے توانائی ملے اور اس ادب کے دلدادہ اپنی شخصیت کے پورے قد کو پہنچ سکیں۔ ہینرلٹ نے کہا تھا،


“TO KNOW THE BEST IN EACH CLASS INFERS A HIGHER DEGREE OF TASTE, TO REJECT THE CLASS IS ONLY A NEGATION OF TASTE, FOR DIFFERENT CLASSES DO NOT INTERFERE WITH ONE ANTOTHER.


’’ہرطبقے میں یا قسم میں یا درجے میں بہترین کو جاننا، ایک اعلیٰ درجے کا ذوق ظاہر کرتا ہے۔ اس طبقے یا درجے کو رد کرنا، ذوق کے منافی بات ہے، کیونکہ مختلف درجے ایک دوسرے کی راہ میں حایل نہیں ہوتے۔’‘


ادب اور سیاست ایک ہی دنیا کے باسی ہیں۔ سیاست کے حقیقی معنی زندگی کرنے کے ہیں، حکومتوں کے عروج و زوال کے نہیں۔ زندگی کرنے میں شاد باید زیستن ناشاد باید زیستن دونوں کے مرحلے آتے ہیں۔ غزل یوں تو عشق کی زبانی حسن کی داستان ہے مگر اس میں آرایشِ خم کا کل کے ساتھ اندیشہ ہائے دور دراز بھی ہیں۔ چنانچہ صرف عشق ہی شاعری نہیں۔ خوف، نفرت، تحقیر، امید، محبت، حیرت بھی شاعری کے موضوع ہیں اور غزل میں کاروباری دنیا اور اس کے سارے نشیب و فراز مل جاتے ہیں۔ غزل اردو شاعری کی سب سے سیکولر، سب سے زیادہ آدمیت اور انسانیت کی مظہر، آدمی میں شیطان اور فرشتے، مومن اور کافر، قدامت پسند اور جدید، مقامی اور آفاقی عناصر سبھی کی جلوہ گاہ ہے۔


میں یہاں ان اشعار کا حوالہ نہیں دوں گا، جن میں ہندوستان کی تاریخ، اس کے فطری مناظر، اس کے موسم، اس کے تیوہار، اس کے رسم وراج، اس کی لذت کام و دہن، اس کے اسبابِ دلبری و عشوہ گری، اس کے زخموں اور ان زخموں کی چارہ گری کا بیان ہے۔ یہ سب کچھ نظموں میں زیادہ صراحت سے بیان ہوا ہے، مگر اس مشترکہ تہذیب کی روح، اس کے عقیدے، اس کی فضا، اس کے مزاج، اس کی میانہ روی اور اعتدال پسندی، اس کی انسان دوستی، اس کی شائستگی، اس کی مجلسی تہذیب، اس کی محبت اور نفرت، اس کا رجز اور اس کی طنز کی کاٹ کی طرف چند اشعار کی مدد سے اشارہ کرں گا۔ میرؔ کہتے ہیں،


اے آہوانِ کعبہ نہ اینڈ و حرم کے گرد
کھاؤ کسی کا تیر کسی کے شکار ہو

ہم نہ کہتے تھے کہ مت دیر و حرام کی راہ چل
اب یہ جھگڑا حشر تک شیخ و برہمن میں رہا

مسجد ایسی بھری بھری کب تھی
میکدہ اک جہاں ہے گویا

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

آدم خاکی سے عالم کو جِلا ہے ورنہ
آئینہ تھا یہ مگر قابلِ دیدار نہ تھا


غالبؔ کے یہ اشعار دیکھیے،
دیر و حرم آئینہ تکرارِ تمنا
وا ماندگیِ شوق تراشے ہے پناہیں

ہم موحد ہیں ہمارا کیش ہے ترکِ رسوم
ملتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہوگئیں


نہیں کچھ سبحہ و زنار کے پھندے میں گیرائی
وفاداری میں شیخ و برہمن کی آزمائش ہے

تماشائے گلشن تمنائے چیدن
بہار آفرینا گنہ گار ہیں ہم

قطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے دریا لیکن
ہم کو منظور تنک ظرفی منصور نہیں

جبکہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے

سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں
ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے


اقبالؔ یوں غزل سرا ہوتے ہیں،
اسی کوکب کی تابانی سے ہے تیرا جہاں روشن
زوال آدم خاکی زیاں تیرا ہے یا میرا

عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے

باغِ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
کارِ جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر

قصور وار غریب الدیار ہوں لیکن
ترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد


شیر مردوں سے ہوا بیشۂ تحقیق تہی
رہ گئے صوفی و ملا کے غلام اے ساقی

متاعِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزومندی
مقام بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن


فانیؔ کہتے ہیں،
ہے منع راہِ عشق میں دیر و حرم کا ہوش
یعنی کہاں سے پاس ہے منزل کہاں سے دور

تو کہاں ہے کہ تری راہ میں یہ کعبہ ودیر
نقش بن جاتے ہیں منزل نہیں ہونے پاتے

حرم و دیر کی گلیوں میں پڑے پھرتے ہیں
بزم رنداں میں جو شامل نہیں ہونے پاتے


صدر الدین آزردہؔ کا ایک شعر ہے،


کامل اس فرقۂ زہاد سے اٹھا نہ کوئی
کچھ ہوئے بھی تو یہ رندانِ قدح خوار ہوئے


اقبال سہیلؔ کہتے ہیں،
پہنچی یہاں بھی شیخ و برہمن کی کشمکش
اب میکدہ بھی سیر کے قابل نہیں رہا


یگانہؔ کا ایک مشہور شعر ہے،
بتوں کو دیکھ کے سب نے خدا کو پہچانا
خدا کے گھر تو کوئی بندۂ خدا نہ گیا


میں یہ نہیں کہتا کہ غزل میں مذہبی شاعری نہیں ہے، مگر اردو غزل تصوف کے اثر سے اور انسان دوستی کے جذبے میں سرشار رواداری، انسان دوستی، سچی روحانیت کی علمبردار ہے۔ اس نے ہماری زندگی کے ہرپہلو کی عکاسی کی ہے۔ شاعری اور سیاست کے اس امتزاج کو بینی نرائن موزوں کے اس شعر میں دیکھئے جو سراج الدولہ کے متعلق ہے،


غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی
دوا نہ مر گیا آخر کو ویرانے پہ کیا گزری


میرے علی گڑھ کے استاد خواجہ منظور حسین کی کتاب ’’اردو غزل کا خارجی روپ، بہروپ‘‘ جو پاکستان سے حال میں شائع ہوئی ہے، اس سلسلے میں بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ انھوں نے مثالوں سے واضح کیا ہے کہ ستم گر، رقیب، چارہ گر، قفس، آشیاں، طوفان، موج، زنجیر، زنداں، ساحل، وفا، جفا کی اصطلاحیں، عشق کے مثلث یا روایتی احساس کی ترجمان نہیں، اپنے اندر ہماری سیاسی اور سماجی زندگی کی ایک بصیرت افروز تصویر بھی رکھتی ہیں۔ شاعر ہمیشہ چاہیے پر نظر نہیں رکھتا، اس کی توجہ ’’ہے’‘ پر مرکوز زیادہ رہتی ہے۔ ذرا ان اشعار پر غور کیجئے،


(۱)
یاران تیز گام نے محمل کو جا لیا
ہم محوِ نالۂ جرسِ کارواں رہے
حالی


(۲)
قید کی حد میں بڑھالی ہم نے آزادی کی حد
یوں دے جھٹکے کہ حلقے کھنچ گئے زنجیر کے
آرزو


(۳)
شب کو زنداں میں مرا سر پھوڑنا اچھا ہوا
کچھ نہ کچھ تو روشنی آنے لگی دیوار سے
ثاقب


(۴)
باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے
ثاقب


(۵)
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمیں سوگئے داستاں کہتے تھے
ثاقب


اردو جس مشترک تہذیب کی ترجمان اور وارث ہے، وہ دیہات سے زیادہ شہر کی متمدن، شائستہ، رنگین اور آداب مجلسی کی مظہر زندگی کی عکاسی کرتی ہے۔ اس طرزِ زندگی پر آزاد ہندوستان کے بدمستوں نے انگلیاں اٹھائیں اور سمپورنانند نے تو اسے ’’قورمے اور کباب کا آدرش‘‘ بھی کہا، مگر ذرا سوچیے تو کہ ساری دنیا میں زندگی دیہات سے شہر کی طرف سفر کی داستان ہے اور اس میلان کو بدلا نہیں جاسکتا۔ ہاں آج کے غدار شہروں کے بجائے چھوٹے، صاف ستھرے اور فطرت سے قریب شہروں کی ضرورت پر زور دیا جانے لگاہے۔


قصباتی اور چھوٹے شہروں کی تہذیب میں فطرت سے دوری نہیں ہے اور آج کے بڑے شہروں کی سی تنہائی اور بیگانگی بھی نہیں۔ ان میں ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے، راستے میں چلتے ہوئے ادھر ادھر نظر ڈالنے اور کسی رنگین منظر سے لطف اندوز ہونے کی گنجائش ہے۔ اس میں یارانِ سر پُل بھی مل جاتے ہیں اور مسجد کے زیر سایہ خرابات بھی۔ اس میں دلی کے گلی کوچوں کے اوراق مصور، غزالانِ لکھنؤ اور کلکتے کے بتانِ خود آرا کی جھلک بھی ہے اور ان مجلسوں کی بھی جن کے متعلق شاعر کہتا ہے،


آئے بھی لوگ بیٹھے بھی اٹھ بھی کھڑے ہوئے
میں جا ہی ڈھونڈتا تیری محفل میں رہ گیا


شمالی ہند کی برسات کی آمد، صفیؔ کے اس شعر میں دیکھیے،


گھٹا اٹھی ہے کالی اور کالی ہوتی جاتی ہے
صراحی جو بھری جاتی ہے خالی ہوتی جاتی ہے


برق کو ابر کے دامن میں چھپا دیکھا ہے
ہم نے اس شوخ کو مجبور حیا دیکھا ہے

لپٹ جاتے ہیں وہ بجلی کے ڈر سے
الہی یہ گھٹا دو دن تو برسے
حسرت


اور میر کے اس شعر کو تو میں اکثر دہراتا رہتا ہوں۔


چلتے ہو تو چمن کو چلئے، کہتے ہیں کہ بہاراں ہے
پات ہرے ہیں پھول کھلے ہیں کم کم باد و باراں ہے


غزل ہماری تہذب کی یہ تصویریں بھی اپنے جام جہاں نما میں رکھتی ہے۔


اگر ئی کا ہے گماں اس پہ ملاگیری کا
رنگ لایا ہے دوپٹہ ترا میلا ہوکر

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

روٹیاں کون پکائے ترے سارے گھر کی
اے بوا کون نکلوائے پلیتھن اپنا


ہماری مشترک تہذیب کی وہ قدریں، جو اس کی عوامی، جمہوری اور اخلاقی جہت کو ظاہر کرتی ہیں، ان اشعار میں دیکھیے،


ہم نے چاہا تھاکہ فریاد کریں حاکم سے
وہ بھی کم بخت ترا چاہنے والا نکلا
نظیر


اور لے آئے بازار سے گر ٹوٹ گیا
جام جم سے یہ مرا جامِ سفال اچھا ہے
غالب


قریب ہے یارو روزِ محشر چھپےگا کشتوں کا خون کیوں کر
جو چپ رہےگی زبانِ خنجر، لہو پکارےگا آستیں کا
میر


آہ تا چند رہے خانقہ و مسجد میں
ایک تو صبح گلستان میں بھی شام کرو
میر


موج نے ڈوبنے والوں کو بہت کچھ پلٹا
رخ مگر جانبِ ساحل نہیں ہونے پاتے
فانی


ہڈیاں ہیں کئی لپٹی ہوئی زنجیروں میں
لیے جاتے ہیں جنازہ ترے دیوانے کا


فصل ِ گل آئی یا اجل آئی کیوں درِ زنداں کھلتا ہے
کیا کوئی وحشی اور آپہنچا یا کوئی قیدی چھوٹ گیا


اردو غزل نے طنز اور ہجو ملیح سے بڑا کام لیا ہے۔ غزل میں خطابت کی گنجائش نہیں۔ یہاں تلوار کی نہیں نشتر کی کارفرمائی ہے۔ یہاں ہیجانی، پرشور، تندلے، اعلان، فرمان، فتوے کا سوال نہیں۔ نرم و نازک الفاظ، گمبھیر لہجے، پرسوز لَے کی حکمرانی ہے۔ اسی وجہ سے ظلم و جبر پر اس کی ہلکی، لطیف، دل میں اتر جانے اور ذہن میں چراغاں کرنے والی اور اچھی اچھی نظموں کی پکار، للکار اور جھنکار سے زیادہ وقیع ہو جاتی ہے۔ اس طرح ادب زندگی بن کر زیست کے ان گنت لمحوں میں کائنات کی جھلکیاں دکھاتا رہتاہے۔ چند شعر ملاحظہ ہوں،


خرد کا نام جنوں پڑ گیا، جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے

اس سلیقے سے کیا ذبح کہ دامن ان کا
خون عشاق سے گلنار نہ ہونے پایا


۱۸۵۷ء کے شہیدوں کو خراجِ تحسین اس شعر میں ملاحظہ کیجئے،


اِک خونچکاں کفن میں بھی لاکھوں بنا وہیں
پڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حور کی

افسردگیٔ سوختہ جاناں ہے قہر میرؔ
دامن کو ٹک ہلا کہ دلوں کی بجھی ہے آگ

ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں
تڑپے ہے مرغِ قبلہ نما آشیانے میں


موجودہ دور کی کاروباری ذہنیت، زمانہ سازی اور فسادات کی گرم بازاری پر یہ طنز ملاحظہ کیجئے،


ہم ہیں متاعِ کوچہ و بازار کی طرح
اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح
مجروحؔ


جانے کس سمت چلوں، کون سے رخ مڑجاؤں
مجھ سے مت مل کہ زمانے کی ہوا ہوں میں بھی
مظہرؔ امام


آگ کے شعلوں سے سارا شہر روشن ہو گیا
لو مبارک آرزوئے خار و خس پوری ہوئی
شہریارؔ


حال میں ہندوستان کی سیاسی بساط پر جو کچھ ہوا ہے، ان کے متعلق فانیؔ کے یہ اشعار دیکھیے۔ (فانیؔ کا انتقال ۱۹۴۱ء میں ہوا تھا) شاعر صرف ماضی اور حال کی ترجمانی نہیں کرتا، مستقبل کا اشاریہ بھی ہوتا ہے،


کچھ ادائیں ہیں جنھیں قتل عبث ہے منظور
کچھ سزائیں ہیں جو ملتی ہیں خطا سے پہلے


دو گھڑی کے لیے میزانِ عدالت ٹھہرے
کچھ مجھے حشر میں کہنا ہے خدا سے پہلے


غزل ہماری مشترک تہذیب کی روحانی، جمالیاتی اور سماجی حسیت کی ترجمان بھی ہے۔ شارح بھی، مفسر بھی اور نقاد بھی۔ میرا ایک شعر ہے،


سرورؔ اس کے اشارے داستانوں پر بھی بھاری ہیں
غزل میں جوہر اربابِ فن کی آزمائش ہے