ہم سفری اک دھوکا تھا معلوم نہیں
ہم سفری اک دھوکا تھا معلوم نہیں
شاید ساتھ میں سایا تھا معلوم نہیں
لمحہ لمحہ یکجا کرکے دیکھیں گے
کون کہاں کب بچھڑا تھا معلوم نہیں
جانے کیسے اس نے سہے یہ ظلم و ستم
اندھا گونگا بہرا تھا معلوم نہیں
دیوانے کیا پیاس بجھاتے اشکوں سے
صحرا کتنا پیاسا تھا معلوم نہیں
عکس تمہارے یاد تمہاری ساتھ رہی
کیسے بھیڑ میں تنہا تھا معلوم نہیں
جس در سے سوغات کسی نے نہ پائی
ہاتھ وہاں کیوں پھیلا تھا معلوم نہیں
کس نے عطا کی خار و گل کو رعنائی
کون چمن سے گزرا تھا معلوم نہیں
مانگ اجاڑی کنگن توڑے بیوہ نے
رنگ حنا کب چھوٹا تھا معلوم نہیں
دیر و حرم میں اشکوں کی برسات رہی
ساخرؔ نے کیا مانگا تھا معلوم نہیں