ہائے وہ لوگ جو تھے روح و روان دہلی

ہائے وہ لوگ جو تھے روح و روان دہلی
تا در خلد گئے کر کے گمان دہلی


خر موسیٰ صعقا کی ہے تجلی پیدا
بقعۂ نور ہے ہر ایک مکان دہلی


چاندنی چوک کو سینہ کہیں اور قلعہ کو سر
مسجد جامع کو ٹھہرائیں میان دہلی


لام دہلی علم و ہائے کا شوشہ پرچم
اب تو باقی ہے فقط نام و نشان دہلی


کیا کوئی فتنہ ہے اے چرخ ستم گر باقی
چشم خورشید سے کیوں ہے نگران دہلی


غم بربادئ دہلی میں بجائے مئے ناب
خون دل پیتے ہیں اب بادہ کشان دہلی


یہ محبت ہے مجھے یاں سے کہ بعد از مردن
روزن قبر سے بھی ہوں نگران دہلی


کیا عجب ہے کہ یہی خلد میں بولی جاوے
اہل جنت کے پسند آئے زبان دہلی


سینہ احسنؔ کا جو چیرا تو بقول رضواں
دل خوں گشتہ پہ ہے داغ زبان دہلی