چھین کر خواب مرے میری طلب پوچھتے ہیں
چھین کر خواب مرے میری طلب پوچھتے ہیں
رات بھر نیند نہ آنے کا سبب پوچھتے ہیں
بارشیں آنکھ کی معیوب نہ ہوتی ہوں کہیں
عشق کا چل کسی اجڑے سے ادب پوچھتے ہیں
تیرہ راتوں میں بھلا کیسے جیا جاتا ہے
میرے قاتل بھی تو اب مجھ سے یہ ڈھب پوچھتے ہیں
اپنے شجرے کو بھی ہم راہ لیے چل رسماً
جنگ سے قبل یہاں نام و نسب پوچھتے ہیں
چارہ سازوں نے تو اب سمت بدل لی عامرؔ
آؤ بازار میں بکتے ہوئے لب پوچھتے ہیں