Mazaq Badayuni

مذاق بدایونی

مذاق بدایونی کے تمام مواد

6 غزل (Ghazal)

    واعظ بتوں کے آگے نہ فرقاں نکالئے

    واعظ بتوں کے آگے نہ فرقاں نکالئے صورت سے ان کی معنیٔ قرآں نکالئے ہے دل میں مدعا کہ عوض جاں نکالئے جی کھوئیے پہ جی کا نہ ارماں نکالئے اس دل میں ایسے تیر ہیں کتنے ہی بے نشاں آپ اپنا دیکھ بھال کے پیکاں نکالئے ہے جی میں رکھئے آہ کے شعلہ پہ لخت دل پریوں کے سر پہ تخت سلیماں ...

    مزید پڑھیے

    زباں پر آہ رہی لب سے لب کبھو نہ ملا

    زباں پر آہ رہی لب سے لب کبھو نہ ملا تری طلب تو ملی کیا ہوا جو تو نہ ملا بدل کے روپ ملا وضع عامیانہ میں لباس خاص پہن کر وہ خوبرو نہ ملا وہ آرزو سے ملا جب کچھ آرزو نہ رہی نہ جب تلک گئی ملنے کی آرزو نہ ملا پیالہ روبرو آئے تو اشک خوں نہ بہا شراب ناب میں اے چشم تر لہو نہ ملا سنا دے ساقی ...

    مزید پڑھیے

    پڑا ہوں زیر قدم خاک رہ گزر بن کر

    پڑا ہوں زیر قدم خاک رہ گزر بن کر جھکا ہوں میں ہمہ تن اس گلی میں سر بن کر نکل گیا مری آنکھوں سے مثل خواب و خیال گزر گیا دل روشن سے وہ نظر بن کر کتاب و خط ہی کے دھوکے میں رہ گئے اغیار وہ یار آپ ہی آیا پیام بر بن کر کسی کی تیغ نگہ نے مٹا دیے دھبے ہمارے داغ جگر کٹ گئے سپر بن کر مذاقؔ ...

    مزید پڑھیے

    دلا نہیں یہ مے سرخ فام شیشے میں

    دلا نہیں یہ مے سرخ فام شیشے میں بھرا ہے شیشۂ جاں کا قوام شیشے میں جو دوں شراب کو آب حیات سے تشبیہ تو اتریں خضر علیہ السلام شیشے میں خیال دل میں ہے ساقی کی چشم مے گوں کا شراب جام میں ہے اور جام شیشے میں شگاف دل میں بھرا مرہم مئے انگور کیا ہے کیا ہی کرامت کا کام شیشے میں میں خرق ...

    مزید پڑھیے

    کھڑکی سے اس صنم کا جو مکھڑا نظر پڑا

    کھڑکی سے اس صنم کا جو مکھڑا نظر پڑا طاق حرم سے جلوہ خدا کا نظر پڑا سات آسماں کی سیر ہے پردوں میں آنکھ کے آنکھیں کھلیں تو طرفہ تماشا نظر پڑا دیکھا ہے آنکھ نے ترا جی چاہے پوچھ دیکھ اے دل میں کیا کہوں مجھے کیا کیا نظر پڑا انسان ان کو دیکھ رکے کیونکہ آنکھ سے حور و پری کو جن کا نہ ...

    مزید پڑھیے

تمام