اس دور کا ہر آدمی عیار ہو گیا
اس دور کا ہر آدمی عیار ہو گیا اپنا ضمیر بیچ کے سردار ہو گیا خدمت کی فکر ہے نہ کسی کا ذرا خیال خادم ہماری قوم کا غدار ہو گیا سمجھو کہ خوف اس کو بھی چنگاریوں کا ہے بارود کا جو ملک خریدار ہو گیا دن رات لٹ رہی ہیں غریبوں کی بستیاں سرگرم جب سے لوٹ کا بازار ہو گیا سر چڑھ کے بولتا ہے ہر ...